خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 203 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 203

خطبات طاہر جلد ۹ 203 خطبه جمعه ۳ اراپریل ۱۹۹۰ء تکبر کا جھوٹ کے ساتھ جو رشتہ ہے یہ ایک بہت ہی حیرت انگیز مضمون ہے جس کے اوپر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لب کشائی فرمائی ہے اور اس پر غور کرنا چاہئے۔امر واقعہ یہ ہے کہ آپ جب غور کر کے تجزیہ کریں گے تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ کس طرح تکبر اور جھوٹ کا چولی دامن کا ساتھ رہتا ہے۔تکبر ایسی بلا ہے کہ انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: یاد رکھو تکبر شیطان سے آتا ہے اور تکبر کرنے والے کو شیطان بنادیتا ہے۔جب تک انسان اس سے دور نہ ہو یہ قبول حق اور فیضان الوہیت کی راہ میں روک ہو جاتا ہے۔۔۔۔یه فقرہ غور کے لائق ہے کہ تکبر شیطان سے آتا ہے اور تکبر کرنے والے کو شیطان بنادیتا ہے۔آپ غور کریں تو شیطان بنا ہی تکبر سے تھا۔اس کا آغاز ہی تکبر سے ہوا تھا اور اس کا انجام شیطانیت پر تکبر کے نتیجہ میں ہوا۔پس شیطان ہی سے تکبر آتا ہے اور بالآخر انسان کو شیطان بنادیتا ہے۔” جب تک انسان اس سے دور نہ ہو یہ قبول حق اور فیضان الوہیت کی راہ میں روک ہو جاتا ہے کسی طرح سے بھی تکبر نہیں کرنا چاہئے۔نہ علم کے لحاظ سے، نہ دولت کے لحاظ سے ، نہ وجاہت کے لحاظ سے، نہ ذات اور خاندان اور حسب نسب کی وجہ سے کیونکہ زیادہ تر انہی باتوں سے یہ تکبر پیدا - ہوتا ہے۔اور جب تک انسان ان گھمنڈوں سے اپنے آپ کو پاک صاف نہ کرے گا اس وقت تک وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک برگزیدہ نہیں ہو سکتا۔“ ( ملفوظات جلد ۴ صفحه : ۲۱۲) قرآن کریم نے جہاں تکبر کا بکثرت ذکر فرمایا ہے۔ان آیات پر اگر آپ غور کریں تو تکبر کی بہت سی باریک راہوں پر آپ اطلاع پا سکتے ہیں کیونکہ قرآن کریم کا یہ اسلوب ہے کہ بظاہر ایک ہی مضمون بار بار دہراتا ہے لیکن جب آپ سیاق وسباق پر غور کریں اور آیات میں معمولی تبدیلیوں پر غور کریں تو تب آپ کو یہ سمجھ آتی ہے کہ ایک ہی مضمون نہیں ہے بلکہ ایک مضمون کی مختلف شاخوں پر بحث ہو رہی ہے اور مختلف پہلوؤں اور زاویوں سے ایک مضمون کو