خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 202
خطبات طاہر جلد ۹ 202 خطبہ جمعہ ۱۳ را پریل ۱۹۹۰ء کر سکوں، ایک یہ رجحان ہے ، ایک یہ ہے کہ میں نے پکڑ لیا اس کو ، یہ بڑا بنا پھرتا تھا اپنا یا جماعت کا عہد یدار فلاں یا فلاں شخص ۔ اب میں اس کو بتا تا ہوں کہ یہ کیا چیز ہے؟ تو ان دونوں باتوں میں، دونوں رجحانات میں زمین آسمان کا فرق ہے حالانکہ امر واقعہ وہی رہتا ہے ایک غلطی سرزد ہوئی ہے۔ وہ برحق ہے۔ پس یہ ہیں وہ باریک راہیں جن پر چل کر آپ پہلے اپنے تکبر کو مٹائیں کیونکہ متکبر خدا کی راہوں میں داخل نہیں ہوتا، متکبر کو رفعتوں کے آسمان نصیب نہیں ہوتے یہ قرآن کریم کا فیصلہ ہے ۔ اس فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ۔ ایک شخص جو اپنے بھائی کی بات کو تواضع سے سننا نہیں چاہتا اور منہ پھیر لیتا ہے اُس نے بھی تکبر سے حصہ لیا ہے۔ ایک غریب بھائی جو اس کے پاس بیٹھا ہے اور وہ کراہت کرتا ہے اس نے بھی تکبر سے حصہ لیا ہے۔ ایک شخص جو دعا کرنے والے کو ٹھٹھے اور ہنسی سے دیکھتا ہے اُس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔ اور وہ جو خدا کے مامور اور مرسل کی پورے طور پر اطاعت کرنا نہیں چاہتا اُس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔ اور وہ جو خدا کے مامور اور مرسل کی باتوں کو غور سے نہیں سنتا اور اس کی تحریروں کو غور سے نہیں پڑھتا اُس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔ سو کوشش کرو کہ کوئی حصہ تکبر کا تم میں نہ ہو تا کہ ہلاک نہ ہو جاؤ اور تا تم اپنے اہل و عیال سمیت نجات پاؤ۔ خدا کی طرف جھکو اور جس قدر دنیا میں کسی سے محبت ممکن ہے تم اُس سے کرو اور جس قدر دنیا میں کسی سے انسان ڈرسکتا ہے تم اپنے خدا سے ڈرو۔ پاک دل ہو جاؤ اور پاک ارادہ اور غریب اور مسکین اور بے شر تا تم پر رحم ہو۔ ( نزول مسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه :۴۰۳) پھر آپ فرماتے ہیں: یادر ہے کہ تکبر کو جھوٹ لازم پڑا ہوا ہے بلکہ نہایت پلید جھوٹ وہ ہے جو تکبر کے ساتھ مل کر ظاہر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ جل شانہ، متکبر کا سب سے پہلے سر توڑتا ہے ۔ ( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه: ۵۹۹ )