خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 201 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 201

خطبات طاہر جلد ۹ 201 خطبہ جمعہ ۱۳ار اپریل ۱۹۹۰ء بہت باریک نظر سے مطالعہ کیا ہے۔کوئی انسان جس میں صداقت کا ایک ذرا سا بھی بیج ہو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس قسم کے کلام کو پڑھنے کے بعد وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا کہ یہ شخص جھوٹا ہوسکتا ہے کیونکہ تقویٰ کی یہ باریک راہیں سوائے اعلیٰ درجے کے صداقت شعار لوگوں کے اور کسی کو نصیب نہیں ہوا کرتیں۔پس دیکھیں! کس طرح آپ ہماری اصلاح فرماتے ہیں ہمیں تقویٰ کی باریک راہیں دکھاتے ہیں۔ان خطرات سے آگاہ کرتے ہیں جو ہمیں روز در پیش ہوتے ہیں اور ہم ان سے اپنی آنکھیں بند کئے رکھتے ہیں۔فرماتے ہیں: މ۔۔۔۔و شخص بھی جواپنی طاقتوں پر بھروسہ کر کے دعا مانگنے میں ست ہے وہ بھی متکبر ہے کیونکہ قوتوں اور قدرتوں کے سرچشمہ کو اس نے شناخت نہیں کیا اور اپنے تئیں کچھ چیز سمجھا ہے۔تو تم اے عزیزو! ان تمام باتوں کو یا درکھو۔ایسا نہ ہو کہ تم کسی پہلو سے خدا تعالیٰ کی نظر میں متکبر ٹھہر جاؤ اور تم کو خبر نہ ہو۔ایک شخص جو اپنے بھائی کے ایک غلط لفظ کی تکبر کے ساتھ صحیح کرتا ہے اس نے بھی تکبر سے حصہ لیا ہے“ تصحیح منع نہیں یعنی کسی کو درست کر نا لیکن رجحان ہے جو یہ فیصلہ کرے گا کہ وہ خدا کی نظر میں پسندیدہ فعل تھا یا بر افعل تھا۔ایک تصحیح ہے جیسا کہ میں پہلے بھی جماعت کو متوجہ کر چکا ہوں۔جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ہمیں سمجھائی کہ جب نماز میں امام غلطی کرے تو سبحان اللہ کہا کرو۔کیسی پیاری تصیح ہے۔یہ بتایا گیا کہ صرف اللہ پاک ہے۔یہ تصحیح کرنے والا غلطی سے پاک ہے، نہ وہ پاک ہے جس کی تصحیح کی جارہی ہے اور اللہ پاک ہے۔تو تصحیح کے ساتھ ہی انکسار کا نسخہ بھی دے دیا اور تکبر سے بچنے کی راہ بھی دکھا دی۔تو آپ فرماتے ہیں کہ تکبر کے ساتھ جو صحیح کرتا ہے اس نے تکبر کیا ہے ورنہ صحیح اپنی ذات میں کوئی برافعل نہیں۔ہمیں تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے کھڑا کیا گیا ہے۔اس لئے یہ کہنا غلط ہے کہ ہم کسی بھائی کی درستی کریں تو نعوذ باللہ وہ تکبر ہوگا۔کس انداز میں درستی کرتے ہیں۔یہ ہے جو فیصلہ کن بات ہے کہ کوئی انسان متکبر ثابت ہوتا ہے یا عاجز ثابت ہوتا ہے۔بعض دفعہ کسی انسان کی تصحیح کی طرف آپ توجہ کرتے ہیں اور استغفار بھی کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہ غلطی اس سے ہوئی ہے، کل مجھ سے بھی ہوئی تھی۔میں اس بات کا اہل بھی ہوں کہ نہیں کہ اس کی تصحیح