خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 191 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 191

خطبات طاہر جلد ۹ 191 خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۹۰ء تو ہر بلندی کے لئے ایک عجز کا مقام ہے ۔ اس بات کو آپ اچھی طرح یاد رکھیں ۔ یعنی صلى یہاں بلندی سے مراد یہ ظاہری بلندیاں نہیں ہیں۔ ہر انسان کے لئے اس کی خلقت میں کچھ بلندی پانے کی استطاعت موجود ہے اور ہر انسان کا آسمان الگ الگ آسمان ہے۔ تبھی خدا تعالیٰ نے مختلف نبیوں کو معراج کی رات آنحضرت ﷺ علوسه کو مختلف آسمانوں پر دکھایا ہے ہے ان ان سے خدا نے نے کوئی نا انصافی نہیں فرمائی۔ ہر شخص کی بلندی کی ایک استطاعت ہے اور اس بلندی تک وہ بلند ہوسکتا ہے۔ چنانچہ مصلح موعود کی پیشگوئی میں اس مضمون کو یوں بیان فرمایا گیا کہ وہ اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا ۔ یعنی خدا تعالیٰ نے اس کو جتنی صلاحیتیں بخشی ہیں اس کا وہ آخری نقطہ جو آسمان پر مقدر ہے وہاں تک رسائی پا جائے گا یعنی وہ اپنی قوتوں کو ضائع نہیں کرے گا اور اپنی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھائے گا ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو توفیق بخشے گا کہ جو رفعتیں اس کے لئے مقدر تھیں وہ ان کو حاصل کرلے گا۔ صلى الله پس اس آیت نے ہمیں سمجھایا کہ عجز کے ذریعے بلندیاں حاصل ہوتی ہیں اور یہاں رفعت سے مراد صفات باری تعالیٰ ہیں کیونکہ حقیقت میں ظاہری آسمان کی طرف اٹھایا جانا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ یہاں ہرگز ظاہری آسمان مراد نہیں، نہ کبھی آج تک ہم نے دیکھا ہے کہ زنجیروں سے باندھ کر خدا نے کسی سجدہ کرنے والے کو سجدہ کی حالت سے اٹھا کر کسی او پر نظر آنے والے جو میں پہنچا دیا ہو۔ پس یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آنحضور یہ خبر دیں اور واقعہ نہ ہو لیکن یہ واقعہ ہر روز گزرتا ہے ۔ ہزاروں لاکھوں بندگان خدا ایسے ہیں جو سجدوں کی حالت میں اٹھائے جاتے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ سجدہ ظاہری سجدہ ہو۔ ان کے دلوں پر زندگی میں ایسی کیفیتیں طاری ہوتی ہیں جو اچانک ان پر ان کے عجز کا ایک مقام روشن کرتی ہیں اور اس Flash میں اس ایسے لمحے میں جس کو ظاہری وقت سے نا پا ہی نہیں جا سکتا ، اچانک ان کو اپنا عجز کا ایک مقام دکھائی دیتا ہے اور دل سے خدا تعالیٰ کی ایسی تکبیر بلند ہوتی ہے کہ اس کے نتیجے میں انہیں رفعتوں کے ایک آسمان کی طرف بلندی نصیب ہوتی ہے۔ پس آخری درجہ ساتویں آسمان تک کا عام بندوں کا درجہ ہے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کو ان کے علاوہ رفعت کا صلى الله صلى الله ایک اور مقام عطا ہوا ۔ جوان آسمانوں کے بعد کا مقام تھا اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ حضور اکرم علی خدا کے سب عاجز بندوں سے زیادہ عجز کرنے والے تھے۔ اس لئے عجز والے کو بلندی عطا ہوتی ہے اور