خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 188
خطبات طاہر جلد ۹ 188 خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۹۰ء ہے۔صرف خدا ہے جس کے متعلق جس کی صفات میں لفظ متکبر آتا ہے اور بڑی شوکت والی صفت ہے۔بڑا ہی رعب پیدا ہوتا ہے انسان پر جب انسان خدا کی صفت متکبر پرغور کرتا ہے۔اس کے سوا کسی بندے میں نہ تکبر کرنے کی استطاعت ہے، نہ تکبر کرنے کی طاقت ہے نہ اسے زیب دیتا ہے نہ اسے اجازت ہے اس لئے خدا کے انبیاء بھی جبکہ خدا کی دوسری صفات میں شریک ہو جایا کرتے ہیں۔شریک ان معنوں میں کہ اس سے حصہ پاتے ہیں ویسے تو نعوذ باللہ شرک کا دوسرا مضمون ان پر صادق نہیں آتا لیکن کسی نہ کسی رنگ میں خدا تعالیٰ کی صفت میں رنگین ہو جانے کا انسان میں ملکہ حاصل ہے اور اسے طاقت ودیعت کی گئی ہے لیکن تکبر کے لحاظ سے نہیں۔پس تکبر اگر کسی جگہ ہے تو وہ خدا کے اور بندے کے درمیان ایک ایسا فاصلہ پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے نتیجے میں متکبر خدا سے مل ہی نہیں سکتا۔چنانچہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو اپنے رنگ میں یوں بیان فرمایا کہ دولت مندوں کا خدا کی بادشاہی میں داخل ہونا کیسا مشکل ہے کیونکہ اونٹ کا سوئی کے ناکے میں نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولت مند خدا کی بادشاہی میں داخل ہو۔(لوقا باب ۱۸۔آیات ۲۴۔۲۵) اس زمانے میں غالباً دولت مند ہی زیادہ متکبر ہوا کرتے تھے اس لئے اے دولت مندو! کہہ کر در اصل متکبر کا مضمون باندھا گیا ہے لیکن قرآن کریم نے اس مضمون کو نہایت زیادہ کمال کے ساتھ اور بہت ہی حسین انداز میں بیان فرمایا ہے اور اس مضمون کو جو حضرت مسیح علیہ السلام کے قول کی صورت میں ابتدائی دکھائی دیتا ہے اسے مکمل کر دیا ہے یعنی قرآن کریم کے بیان میں یہ مضمون اپنے ختم کو پہنچ گیا ہے اس سے بڑھ کر یہ مضمون بیان نہیں ہوسکتا فرمایا : إِنَّ الَّذِيْنَ كَذَّبُوا بِأَيْتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ (الاعراف:۴۱) (خیاط ہے لفظ، جب میں پڑھتا ہوں تو بعض دفعہ لوگوں کو شبہ پڑتا ہے کہ فتح کے ساتھ پڑھا ہے۔لیکن وہ فرق پڑھنے کی بجائے طرز میں ہے۔بعض دفعہ بعد میں بھی لوگ پوچھتے ہیں تو یہ میں ان کو سمجھانے کے لئے بتا رہا ہوں ) وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِ مِینَ یقیناً وہ لوگ جنہوں نے