خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 187
خطبات طاہر جلد ۹ 187 خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۹۰ء اللہ تعالیٰ تو جمال کو پسند کرتا ہے۔وہ جو کچھ نہیں کی حالت ہے وہ بیرونی حالت نہیں ہے وہ ایک اندرونی کیفیت کا نام ہے اور بعض دفعہ بیرونی کیفیت اس اندرونی کیفیت سے بالکل متقابل ہوتی ہے۔اس سے بالکل برعکس دکھائی دیتی ہے۔چنانچہ حضرت عبدالقادر جیلانی کے متعلق آتا ہے کہ وہ بڑے خوش پوش تھے۔بہت ہی خوبصورت اور نہایت ہی قیمتی لباس پہنا کرتے تھے تو کسی نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے آپ تو بڑے بزرگ اور خدا کے خاص پیارے بندے ہیں۔انہوں نے کہا ! میں نہیں پہنتا جب تک مجھے خدانہ کہے۔ان کے دل کی پسند تھی جو خدا کی خاطر چھوڑ دینے پر تیار بیٹھے تھے لیکن اللہ نے اس پر نظر فرمائی اور کہا نہیں پہنو! تو بعض دفعہ خدا اپنے بندے کے دل کی پسند پوری کرنے کے سامان خود فرماتا ہے اور اس کا بجز ان کپڑوں میں چھپ جاتا ہے۔پس عجز کا ظاہری حالت سے تعلق نہیں ہے۔بعض دفعہ بجز پھوٹ کر ظاہری حالت پر اثر انداز ضرور ہوتا ہے لیکن اس کو پہچاننے کے لئے بھی عرفان کی آنکھ چاہئے ، جواندر کا بجز ہے وہ ہے۔ور نہ تو آپ کو بے شمار سادھو ایسے دکھائی دیں گے جو جسموں پر راکھ ملتے ہیں کئی دفعہ لوگ حیرت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ یہ راکھ کا کیا قصہ ہے۔یہ راکھ کیوں مل رہے ہیں ؟ معلوم ہوتا ہے کسی زمانے میں کسی صاحب عرفان نے ان کو یہ بتایا ہوگا کہ مٹی میں مل جانے سے راکھ ہو جانے سے خدا ملتا ہے جنہوں نے مٹی کا محاورہ سنا انہوں نے مٹی ملنی شروع کر دی، جنہوں نے خدا کی راہ میں راکھ ہو جانے کا ذکر سنا۔انہوں نے یہ نہ سوچا کہ خدا کی خاطر اپنے وجود کو جلا کرختم کر دینا اور اپنے نفس کی راکھ بن جانا یہ مراد ہے خدا کی لقاء کے لئے یہ چیز ہے جو انسان کی مدد کرتی ہے تو انہوں نے راکھیں ملنی شروع کر دیں۔پس بجز کے مقام تو بے شمار ہیں لیکن جب تک اندرونی طور پر آپ کو وہ آنکھ نصیب نہ ہو جو عجز کی شناسائی بخشتی ہے جس سے بجز پہچانا جاتا ہے۔اس وقت تک صحیح معنوں میں آپ خدا کی راہ میں آگے قدم نہیں بڑھا سکتے۔ایک اور پہلو سے جب ہم بجز کے مضمون پر نظر ڈالتے ہیں تو اس کی برعکس صورت کو دیکھ کر بجز کا مضمون ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اور وہ ہے تکبر۔تکبر بجز کا بالکل برعکس ہے اور تکبر ایک ایسی چیز ہے جو انسان اور خدا کے درمیان ایک مکمل جدائی پیدا کرنے والا مضمون ہے۔کیونکہ تکبر ایک ایسی چیز ہے جو خدا کے سوا کسی کو زیب ہی نہیں دیتا۔یہ وہ صفت ہے جس میں خدا کا کوئی نبی شریک نہیں