خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 186 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 186

186 خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۹۰ء خطبات طاہر جلد ۹ دوسری بلندی نصیب ہوتی ہے تو اس بلندی سے خدا کی بلندی کا ایک اور آسمان اس کے سامنے روشن ہو جاتا ہے ایک نئی بلندی اس کو دکھائی دینے لگتی ہے اور اس کے سامنے پھر وہ اپنے آپ کو دوبارہ عاجز محسوس کرتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ میں نے اپنے آپ کو عاجز سمجھا تو تھا لیکن جیسا کہ حق تھا ویسا عاجز نہیں سمجھا تھا۔خدا تعالیٰ تو لا محدود ہے اور اس کی ذات کی عظمت کا تصور بھی ممکن نہیں ہے۔ایک موقعہ پر حضرت اقدس محمد مصطفی یا اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی غنی ہے اور ایسی لامتناہی دولتوں کا مالک وہ ہے کہ اگر تم اس سے اس کی ساری کائنات مانگو جو مانگ سکتے ہو مانگ لو اور وہ سب کچھ تمہیں دے دے تو اس کی دولت میں اتنی کمی بھی نہیں آئے گی جتنی ایک سمندر میں سوئی کا نوک ڈبوو اور اس کے ساتھ تھوڑ اسا پانی لگارہ جائے جب اس کو باہر نکالو۔(مسلم کتاب البر والصلہ حدیث نمبر: ۴۶۷۴۰) اس پانی سے جو سوئی کی نوک کے ساتھ لگا رہ جاتا ہے اور وہاں قطرہ نہیں ٹھہر سکتا۔مثال بہت خوبصورت دی ہے انگلی ڈ بوؤ اور کوئی چیز ڈبوؤ، اس کے ساتھ زیادہ پانی لگتا ہے۔لیکن جو بار یک نوک ہواس کے ساتھ پانی کا قطرہ نہیں رہ سکتا اس لئے بہت ہی معمولی پانی ہوگا۔فرمایا اس سے جو کمی آتی ہے ، خدا تعالیٰ کی کائنات میں اتنی بھی کمی نہیں آتی اگر وہ تمہیں سب کچھ بھی دے دے۔وہ لامتناہی ہے۔دولت : یہ بات صاحب عرفان کے بغیر کسی کو نصیب نہیں ہوسکتی اور جس کو یہ عرفان ہو اس کو اپنی پر گھمنڈ کیسے ہوسکتا ہے۔ایک ملک کا بادشاہ بھی ہو جائے تو وہ زمین کے ایک ملک کا بادشاہ ہے اور اس کے باوجود اس کا اقتدار کامل نہیں ہے اس کو تو اپنے نفس، اپنے وجود پر بھی اقتدار حاصل نہیں۔جب بیمار پڑتا ہے تو کس طرح بے حیثیت اور بے حقیقت ہو کے رہ جاتا ہے۔اس کو اپنے جذبات پر بھی کامل اختیار نہیں ہوتا ، نہ اپنے غصے پر ، نہ اپنی خوشی پہ، نہ اپنی نیند پر نہ اپنے جاگنے پر، پس وہ ایک بڑے ملک کا بادشاہ بن کر کیسے متکبر ہوسکتا ہے اگر اس کی نظر خدا کی لامتناہی ملکیت پر ہو۔پس عرفان الہی بجز کی راہ سے جو نصیب ہوتا ہے ویسا اور کوئی عرفان نہیں ہے اور اس کے نتیجے میں پھر خدا کی ذات دن بدن زیادہ ظاہر ہونے لگتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض دفعہ بعض صوفیاء نے غلطی کی اور بجز کو ظاہری رنگ دینے لگے اور آپ نے دیکھا ہوگا کہ وہ اپنے اوپر بعض اوقات مٹی ڈالتے تھے ، اپنے کپڑے پھاڑ لیتے تھے گندے کر لیتے تھے اور ایسا رنگ اختیار کرتے تھے جیسے وہ دنیا میں سب سے زیادہ گندے اور غلیظ اور بے کا ر لوگ ہیں۔یہ ایک اظہار تھا کہ ہم کچھ بھی نہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ