خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 185 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 185

خطبات طاہر جلد ۹ 185 خطبه جمعه ۶ را پریل ۱۹۹۰ء پیچھے ہے وہ تمام روشنیوں کا منبع ہے ، تمام روشنیاں اس سے پھوٹتی ہیں ، ہر نور اس سے نکلتا ہے۔ تو نظر کو نہیں ٹھہرا دینا جو ہے یہ ایک قسم کا غلط عجز پیدا کرتا ہے جو شرک کی طرف لے جاتا ہے۔ پس اس مضمون کو بہت غور سے سمجھنا ضروری ہے۔ دنیا میں انسان جب بڑے بڑے بادشاہوں کو، جابر حاکموں کو دیکھتا ہے ان کے سامنے بھی تو ایک عجز محسوس کرتا ہے لیکن اگر اسے حقیقی عاجزی نصیب نہیں یا عجز کا عرفان حاصل نہیں تو اس کی نظر وہیں جھک جاتی ہے۔ عجز سے بجائے اس کے کہ توحید پیدا ہو شرک پیدا ہو جاتا ہے۔ پس حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے خداداد عرفان سے اس بات کو اس رنگ میں تمثیلاً بیان فرمایا کہ دیکھو! اوہو یہ تو ستارہ ڈوب گیا یہ تو میرا خدا نہیں ہو سکتا ۔ ہاں چاند نکلا ہے دیکھو کیسا روشن ، کیسا خوبصورت ، زیادہ پر نور اور زیادہ وجیہہ اور دل کو لبھانے والا لیکن کچھ عرصے کے بعد وہ چاند بھی ڈوب جاتا ہے تو آپ کہتے ہیں کہ اوہو ! ہماری نظر تو یہیں ٹھہری ہوئی لگ رہی تھی یوں لگتا تھا کہ یہی آخری منزل ہے لیکن اس کے بعد بھی ایک منزل ہے۔ دیکھو ! سورج نکل آیا اور کتنا عظیم الشان سورج ہے۔ کس طرح اس نے کل عالم کو روشنی سے بھر دیا ہے شاید یہی ہمارا خدا ہو۔ لیکن جب وہ سورج ڈوبا تو آپ نے فرمایا نہیں نہ ستارہ خدا تھا نہ چاند خدا تھا نہ سورج خدا ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ ماوراء الوراء ہستی ہے جو ہمارا خدا ہے جس نے ان سب چیزوں کو نور بخشا ہے۔ پس عجز تو ضروری ہے لیکن عجز کا بھی اپنا ایک عرفان ہوا کرتا ہے اور صاحب عرفان کا عجز اور ہے اور بے عرفان انسان کا عجز اور ہے۔ بے عرفان کا عجز اسے بالکل ناکارہ اور بے ہمت کر دیا کرتا ہے ہر طاقت ۔ رطاقت کے سامنے وہ سجدہ ریز ہو جاتا ہے۔ ہر بڑے کو دیکھتا ہے اور اس کے سامنے اپنے آپ کو بے حیثیت سمجھ کر اس کو سجدے کرنے لگتا ہے لیکن ایک صاحب عرفان کا عجز بلندیوں کے ساتھ اور جھکتا چلا جاتا ہے۔ نہ وہ تکبر کی طرف مائل ہوتا ہے نہ وہ شرک کی طرف مائل ہوتا ہے۔ پس حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مثال کے ذریعے عجز کی ایک بہت ہی خوبصورت تفسیر ہمارے سامنے فرمادی اور ہمیں بتایا کہ عجز وہی ہے جو بالآخر خدا تک پہنچائے ورنہ تم اپنے آپ کو ایسا حقیر اور بے طاقت سمجھنے لگو گے کہ مخلوق کے سامنے جھک جاؤ گے ۔ پس نبوت میں بھی عجز کا عرفان بڑھتا چلا جاتا ہے کیونکہ ایک بلندی کے بعد جب نبی کو