خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 170 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 170

خطبات طاہر جلد ۹ 170 خطبہ جمعہ ۳۰ / مارچ ۱۹۹۰ء اور کھوکھلی آواز تھی کہ مجھے دوسرا یقین یہ ہو گیا کہ ایک لمحے میں محبت غائب بھی ہوسکتی ہے یعنی اگر لمحے میں پیدا بھی ہوسکتی ہے تو پھر ایک لمحے میں ختم بھی ہوسکتی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ انسانی تجارب میں یہ بات آتی ہے کہ محض حسن کا نظارہ کافی نہیں ہوا کرتا جب تک گہراحسن نہ ہوا اور خدا تعالیٰ کو آپ ایسا بے ذوق سمجھیں نعوذ بالله من ذلك كہ آپ کے اندرحسن کے کوئی آثار پائے نہ جائیں اور وہ پھر بھی آپ کا دوست بنا پھرتا رہے یہ نہیں ہوسکتا۔جس قسم کی ذات سے تعلق قائم کرنا ہے اپنی توفیق کے مطابق کیونکہ یہاں اپنی توفیق شرط ہے۔وہ لامحدود ہے اور ہم محدود ہیں اس لئے مجبوری ہے اپنی توفیق کے مطابق کچھ تو زینت اختیار کریں۔غریب دلہنیں بھی دولہا کے گھر سج کے جایا کرتی ہیں۔ایک پنجابی شاعر ،صوفی شاعر ہیں ان کا پنجابی شعر تو مجھے یاد نہیں لیکن مضمون بڑا پیارا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ساری رات میں ناچ کے اپنے روٹھے یار کو مناؤں۔اور مراد یہ ہے کہ خدا کے حضور گریہ وزاری کروں عبادت کروں تو ہر شخص اپنی توفیق کے مطابق اپنے اندر کچھ زینت ایسی پیدا کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے پیار اور محبت کی نظر اس پر پڑے اور وہ زینت کی تکمیل کا انتظار نہیں کرتا۔یہ اس کی رحمانیت ہے بلکہ زینت کے آغاز پر ہی وہ اپنا جلوہ دکھاتا ہے۔اس لئے ہر وہ شخص جو لقائے باری تعالیٰ کی خاطر اپنی ذات میں کوئی اصلاح پیدا کرتا ہے، اپنے اخلاق کو حسن عطا کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ پہلے سے بہتر میں خدا کے وصال کے قابل بن جاؤں۔ایسے شخص پر پھر خدا خود نازل ہوتا ہے اور اس کے نزول کے ساتھ پھر باقی اصلاح ہونی شروع ہو جاتی ہے۔پس یہ جو مضمون ہے اس کو سمجھتے ہوئے رمضان شریف میں اپنے او پر غور کریں۔بعض دفعہ خدمت سلسلہ کرنے والے جو خط لکھتے ہیں ، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی بہت ہی اصلاح کی گنجائش ہے اور بہت تکلیف دہ حالت ہے۔میں نے ایک لمبا سلسلہ خطبات کا شروع کیا تھا،مختلف اخلاق پر زور دینے کے لئے مالی لین دین، بیویوں سے سلوک، خاوندوں سے سلوک ، دوستوں سے گفتگو میں ، طرز تکلم میں اصلاح وغیرہ وغیرہ وہ اگلی صدی میں داخل ہونے کا بہانہ سامنے رکھ کرتا کہ اس طرح جماعت میں ایک ولولہ پیدا ہو جوش پیدا ہو، میں نے وہ باتیں بیان کیں لیکن حقیقت میں تو ان باتوں کا صدیوں سے تعلق نہیں تھا۔وہ ایک دائمی اہمیت ، دائمی حیثیت کی باتیں ہیں۔حقیقت میں ان باتوں کا