خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 171
خطبات طاہر جلد ۹ 171 خطبہ جمعہ ۳۰ / مارچ ۱۹۹۰ء صدیوں سے نہیں بلکہ ہر آنے والے لمحے سے تعلق ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی وہ لقاء جو زبردستی کی لقاء ہوگی ، ہمارا اس میں اختیار نہیں۔ہم نے بہر حال لوٹ کے اس کے پاس جانا ہے۔وہ تو صدیوں کا انتظار نہیں کیا کرتی۔اس میں تو لمحے لمحے کی بھی ہمیں خبر نہیں کہ اب ہوگی یا اگلے لمحے ہوگی۔پس وہ ساری باتیں ایسی ہیں جن کا لمحات سے تعلق ہے اور ہر آنے والے لمحے سے تعلق ہے۔ان باتوں میں اصلاح کریں اور پھر دیکھیں کہ آپ کے لئے اللہ تعالیٰ کی لقاء زیادہ آسان ہونی شروع ہو جائے گی۔اور بعض دفعہ اخلاق کی ترقی کے ساتھ انسان جزوی طور پر خدا کو اس طرح پانا شروع کر دیتا ہے کہ اس کو پھر چسکا پڑ جاتا ہے پھر وہ آگے بڑھتا چلا جاتا ہے پھر اور آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اور جولقاء کا لطف ہے وہی اگلے قدموں کے لئے غذا بن جاتا ہے لیکن اگر وہ لطف ہی نصیب نہ ہوا ہو تو اگلے قدم کے لئے طاقت نہیں ہوتی بلکہ قدم واپس مڑتے ہیں اور دنیاوی مادی لذتوں کی طرف جھکتے ہیں اور انسان دن بدن اپنے ذوق میں زیادہ سفلہ پن محسوس کرنے لگتا ہے لیکن ایسے بھی ہیں جو کوئی محسوس نہیں کرتے ان کو پتا بھی نہیں لگتا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔پس خدا کی طرف سفر کے لئے ذوق کا لطیف تر ہوتے چلے جانا نہایت ضروری ہے پس اپنے ماحول میں، اپنے بچوں سے گفت و شنید میں اعلیٰ ذوق کا مظاہرہ کریں اپنی بیویوں سے گفت وشنید میں اعلی ذوق کا مظاہرہ کریں۔بیویاں خاوندوں سے گفت و شنید میں اعلی ذوق کا مظاہرہ کریں۔بھائی بہنوں سے ، دوستوں سے بے تکلفی کے باوجود ایک اخلاق کا پاس ضرور رکھا کریں کیونکہ وہ بے تکلفی جو بد تمیزی پر منتج ہو جائے ، وہ بے تکلفی جس سے کلام میں بدخلقی پیدا ہو، وہ بے تکلفی حقیقت میں ایک مہلک زہر ہے۔وہ دوستیوں کو تباہ کرنے والی بے تکلفی ہوا کرتی ہے، دوستیوں کو بڑھانے والی نہیں ہوا کرتی اور ہمارے ملک میں خصوصیت سے یعنی پاکستان میں اور ہندوستان میں بھی اب یہ کثرت سے رواج ہو رہا ہے کہ بے تکلفی اور دوستی کا اظہار گندی گالیوں سے کرنا ہے اور یہ گندی گالیاں پھر آہستہ آہستہ ایسی عادت بن جاتی ہیں کہ اس میں انسان کو شعور ہی نہیں رہتا کہ میں کہہ کیا رہا ہوں اور کر کیا رہا ہوں۔ہمارے ایک خادم سلسلہ نے خدام الاحمدیہ کے اصلاحی دوروں کے سلسلہ میں حیدر آباد ڈویژن کا اور بعض دوسرے علاقوں کا سفر کیا تو ان کا بڑا تکلیف دہ خط موصول ہوا۔انہوں نے لکھا کہ