خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 168
خطبات طاہر جلد ۹ 168 خطبہ جمعہ ۳۰ / مارچ ۱۹۹۰ء سے اس کو نہیں دیکھ سکتے۔ہاں اس کی آنکھ تمہیں پاتی ہے۔وہ تم تک پہنچتا ہے۔پس ان سب نظاروں کے ذریعے لقاء کا ایک قدم تو لازماً اٹھ چکا ہوتا ہے لیکن جب تک وہ اس قدم میں تبدیل نہ ہو کہ خدا میں حرکت پیدا ہو جائے اور وہ آپ کی طرف آئے ، اس وقت تک لقاء کا مضمون پورا نہیں ہوسکتا۔پس آنحضرت ﷺ نے اس دوہری حرکت کو ہی لقاء قرار دیا ہے۔فرمایا! بندہ خدا کی طرف ایک قدم صل الله اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دس قدم اس کی طرف آتا ہے۔وہ چل کر اس کی طرف جاتا ہے تو وہ دوڑتا ہوا اس کی طرف آتا ہے۔(مسلم کتاب الذکر حدیث نمبر :۴۸۵۰) پس پا تا وہی ہے جو تیز ہو۔جوست ہواس کی طرف پانے کا مصدر منسوب نہیں ہو سکتا۔جو چیز کھڑی ہو آپ اسکی حرکت کرتے ہیں۔آپ اس کو پاتے ہیں اور جو چیز کھڑی ہے آپ اس تک پہنچیں گے تو آپ ہی پائیں گے وہ تو حقیقت میں آپ کو نہیں پاتی اور رفتاروں کا موازنہ بھی دراصل Relativity کے تصور میں ایسی ہی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔جو چیز ہلکی رفتار سے کسی طرف بڑھ رہی ہے اور اس کے مقابل پر کوئی چیز تیز رفتار سے اس کی طرف آرہی ہے تو جو تیز رفتار سے آتی ہے وہ پاتی ہے نہ کہ ملکی رفتار والی۔تو خدا تعالیٰ ہی ہے۔جو دراصل لقاء کی تمنا رکھنے والے کو ہمیشہ پاتا ہے اور اس کے لئے جب تک آپ کو مقابل پہ وہ حرکت دکھائی نہ دے اس وقت تک آپ کو لقاء کا مزہ صحیح معنوں میں نہیں آسکتا، ایک فلسفیانہ لقاء ہوگی۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔یہ تو خود اندھی ہے گر نیر الہام نہ ہو ( کلام محمود صفحه: ۵۲) که عقل کے ذریعے بھی تمہیں لقاء ملے گی مگر نیر الہام کے بغیر پوری روشنی نصیب نہیں ہوسکتی۔اس طرف ہے کون؟ اس کا جواب جب تک اس طرف سے نہ آئے محض یک طرفہ نظارے سے آپ تسکین نہیں پاسکتے۔بعض کہانیوں میں ہم نے پڑھا ہوا ہے کہ بعض آباد کے آبادشہر لوگ چھوڑ کے چلے جایا کرتے ہیں اور ان میں کوئی وجود نہیں ہوتا۔یہ کہانیوں کا قصہ تو بچپن کی باتیں تھیں۔اب ایسے شہر دریافت ہوئے ہیں جنوبی امریکہ میں جہاں بالکل یوں لگا ہے کہ اس کہانی کا مضمون صادق آتا ہے۔بعض شہر دریافت ہوئے ہیں جن میں کوئی تباہی نہیں آئی، کوئی جنگ کے آثار نہیں ہیں مگر کوئی نہیں سمجھ سکا اب تک کہ کون سی بلا نازل ہوئی جس کے نتیجے میں لوگ رستہ بستہ شہر چھوڑ کر الوداع کر گئے اور اس طرح شہر کی چیزیں پڑی کی پڑی رہ گئیں۔کیا پتہ کون تھے کہاں چلے گئے اور پھر واپس