خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 167 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 167

خطبات طاہر جلده 167 خطبه جمعه ۳۰ / مارچ ۱۹۹۰ء تصویر کے ذریعہ کسی پر ظاہر ہوتا ہے پس تصویر میں تو اتنی بے انتہاء ہیں۔ہماری ذات کے اندر بھی ہمارے گردو پیش میں بھی کوئی لمحہ ایسا میسر نہیں آسکتا جس میں انسان کے سامنے خدا کی کوئی تصویر جلوہ گر نہ ہو۔پس نہ کوئی جگہ اس سے خالی ہے نہ کوئی لمحہ وقت اس سے خالی ہے، وہ تمام کائنات پر محیط ہے، ہر جگہ ہے ان معنوں میں ہے کہ دیکھا جاسکتا ہے اور ہرلمحہ دیکھا جا سکتا ہے۔کوئی ایک لمحہ بھی خدا کی ذات سے عاری نہیں ہوسکتا۔پس لقاء کے مضمون کو سمجھ کر اپنے اندر شعور پیدا کرنا یہ لقاء کی طرف پہلا قدم ہے۔پھر جیسا کہ میں نے بیان کیا۔اپنے اندر ذوقی لطافتیں پیدا کریں تا کہ یہ دیدار جو ہے یہ محض ایک غائب کا دیدار نہ ہو بلکہ ایک ایسے حاضر کا دیدار ہو جو دیکھ کر پھر آنکھوں سے آنکھیں ملائے ورنہ یہ سارے نظارے یوں ہوں گے جیسے آپ کسی چیز کا حسن دیکھ رہے ہیں لیکن علم نہیں کہ وہ کہاں ہے۔وہ نظر آنے کے باوجود بھی پردوں میں رہے گی۔لیکن اگر وہ صاحب بصیرت ہو اور آپ اسے دیکھ رہے ہوں اور نظر ، نظر سے مل جائے ، پھر وہ لقاء میں ایک اور مضمون داخل ہو جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ تو ایک ایسا وجود ہے جو بصیرت عطا کرنے والا اور بصارت بخشنے والا ہے۔وہ بے بصیرت تو نہیں ، بے بصارت تو نہیں۔پس اگر اس سے لقاء کرنی ہے تو ان نظاروں کو پھر مقابل پر پیدا ہونے والے نظاروں کے ساتھ ملا کر دیکھیں تب لقاء کا مضمون آگے بڑھے گا اور اس میں ایک نیا لطف پیدا ہو جائے گا۔ایک ایسا آدمی جو غافل سو یا پڑا ہوا گر اندھا نہ بھی ہو ، آپ اس کے حسن کا نظارہ کرتے چلے جائیں اس کے باوجود آپ کو پوری تسکین نصیب نہیں ہوسکتی۔ہاں جب آنکھیں کھولے پھر یہ فیصلہ ہوگا کہ آپ نے مزید لطف حاصل کرنا ہے یا آپ کے نصیب میں بے قراری لکھی گئی ہے۔اگر ان آنکھوں میں پیار ہے، اگر ان آنکھوں میں محبت ہے، شناسائی ہے تعلق ہے تو وہ حسن کا نظارہ اچانک ایسی عظیم کیفیتوں میں تبدیل ہو جائے گا کہ پہلے نظارے کو اس کے ساتھ کوئی بھی نسبت نہیں رہتی اور اگر اس میں نفرت کے آثار پائے جاتے ہیں بیزاری کے آثار پائے جاتے ہیں تو وہ جو پہلا لطف تھا وہ بھی ہاتھ سے گیا۔پس خدا تعالیٰ ایک باشعور زندہ ہستی ہے جو زندگی کا سرچشمہ ہے اور شعور کا سر چشمہ ہے۔فرماتا ہے لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ (الانعام :۱۰۴) محض اپنی آنکھ