خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 166
خطبات طاہر جلده 166 خطبہ جمعہ ۳۰ / مارچ ۱۹۹۰ء ہونا چاہئے تھا کیونکہ یہاں ایک باشعور وجود کا ہونا ضروری ہے جب تک شعور نہ ہو اس وقت تک یہ چیز میں از خودا تفاقا بن نہیں سکتیں۔پس اگر آپ ارتقاء پر غور کریں تو جتنا بھی غور کریں گے آپ کو معلوم ہوگا کہ ارتقاء اندھا نہیں ہے بلکہ آنکھوں والا بینا ارتقاء ہے اور اس کو باہر سے بینائی نصیب ہوئی ہے۔اپنی بینائی سے وہ نہیں چلا۔پس ایسا ارتقاء ہے جو چلتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ پوری بینائی رکھتا ہے۔جب اس کو آپ غور سے دیکھتے ہیں تو بے آنکھوں کے ہے تو کیا مطلب بنے گا ؟ اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ کوئی آنکھوں والا اس کو ہاتھ پکڑ کے چلا رہا ہے۔پس جو بینا ارتقاء دکھائی دیتا ہے وہ سائنس دان کی زبان میں بینا نہیں ہونا چاہئے۔اس کی کوئی آنکھ نہیں ہے اور باوجود اس کے اس کی حرکت، اس کا رخ ، اس کے ایک جز و کا دوسرے جزو سے اجتماعی تعلق۔یہ ساری باتیں نظر کی محتاج ہیں جو ظاہری طور پر اس کو میسر نہیں لیکن اس کی تمام ادا ئیں، اس کا رخ اس کے سارے اطوار ایک بینا وجود کے سے ہیں تبھی قرآن کریم نے اس سوال کو اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم خود اپنے خالق ہو؟ عقل کے اندھوغور تو کرو تم تو اپنی کسی چیز کے بھی خالق نہیں ہو۔معمولی سا نظام اس طرح بگڑے کہ جو چیز خدا کی طرف سے عطا کردہ ہے وہ مرجائے تو ساری انسانی ترقیات مل کر جو طاقت پیدا کرتی ہیں وہ بھی وہ چیزیں دوبارہ پیدا نہیں کر سکتیں۔کئی بے اولا دلوگ ہوتے ہیں میرے پاس علاج کے لئے اکثر آتے رہتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ اگر ان کے خلیے مرچکے ہوں تو لازم ہاتھ کھینچنا پڑتا ہے کیونکہ موت کا کوئی علاج نہیں اور جو چیز خدا نے رکھی تھی اور اب نہیں رہی۔اس کو دنیا کی کوئی طاقت کھینچ کر دوبارہ لانہیں سکتی۔قرآن کریم انسان کی اس بے اختیاری اور مجبوری کا ذکر کر کے فرماتا ہے کہ تم تو اتنے کمزور ہو کہ ایک معمولی سی لکھی جو چیز تم سے چھین لے تم اسے اسی حالت میں واپس لوٹا نہیں سکتے۔اس کے اندر جو تبدیلیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور جس طرح وہ اس کے نظام میں جذب ہو جاتی ہے۔تمہارے ہاتھوں سے گئی تو ہمیشہ کے لئے چلی گئی۔پس خدا تعالیٰ کی لقاء تو ظاہری آنکھ سے بھی ہوسکتی ہے ان معنوں میں کہ اس آنکھ سے دیکھ کر آپ مزید غور کریں اس کی کنہ میں داخل ہوں۔اس کی تہہ میں ڈوبیں اور رفتہ رفتہ آپ کو ایک عظیم جہان دکھائی دینے لگے گا۔جس میں خالق اپنی تخلیق کے ذریعہ آپ پر ظاہر ہوگا۔جس طرح مصور اپنی