خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 12
خطبات طاہر جلد ۹ 12 خطبه جمعه ۵ /جنوری ۱۹۹۰ء صرف انسان کو نصیب ہے اور جانور کو نصیب نہیں ہے۔دوسرے موقعہ پر جہاں شہد کی مکھی کی مثال دی ہے۔وہاں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ مثال ایسی نہیں ہے جو تمہیں فور اسمجھ آجائے۔اب ذرا ٹھہر کر اس پر غور کرنا کیونکہ تنظر اس چیز کو کہتے ہیں کہ ایک انسان کسی چیز کی پیروی کرنا شروع کرے اور تلاش شروع کر دے۔چنانچہ تفکر کا جو معنی عربی لغات میں ملتا ہے ، اس میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ جیسے عقل کی روشنی لے کر کوئی انسان کسی چیز کی تلاش میں نکل پڑے اور اسے ڈھونڈنا شروع کر دے۔کمپیوٹر کا جو آج کل کا تصور ہے وہ تفکر کے تصور کے نزدیک تر ہے۔جب آپ کمپیوٹر کو ایک بات کا حکم دیتے ہیں کہ مجھے یہ چیز چاہئے تو بجلی کی رو بڑی تیزی کے ساتھ اس اندرونی نظام میں چکر لگانے لگتی ہے اور ڈھونڈ نے لگ جاتی ہے کہ کہاں یہ چیز ملے گی۔پھر جب اس کو وہ چیز ملتی ہے تو وہاں ٹھہر جاتی ہے اور وہاں سے ایک روشنی کا دروازہ کھول دیتی ہے۔جو بعض چمکتے ہوئے اعداد و شمار کی صورت میں یا تصویروں کی صورت میں آپ کو پردے پر نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔پس تفکر اس بات کو کہتے ہیں۔عقل پہلا مقام ہے اور تفکر اوپر کا اور بعد کا مقام ہے۔چنانچہ وہ لوگ جو عام باتیں دیکھ کر ان سے ہدایت پانے سے محروم رہیں ان کے متعلق قرآن کریم بار بار یہی فرماتا ہے۔أَفَلَا تَعْقِلُونَ پھر ایک موقعہ پر فرمایا صُمٌّ بُكُمْ عَى فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ (البقرہ : ۱۷۳) تم عقل نہیں کرتے۔عقل نہیں کرتے۔بار بار ایسی باتیں بیان فرماتے ہوئے جہاں جہاں توقع کی جاتی ہے کہ عام آدمی دیکھ کر ان کو معلوم کر لے گا۔جب کچھ لوگ ایسے نظر آتے ہیں کہ وہ عام سادہ باتیں دیکھ کر پھر بھی ان کو نہیں دیکھتے اور ان سے استفادہ نہیں کرتے تو قرآن کریم ان کو متنبہ کرتا ہے کہ تم عقل کیوں نہیں کرتے۔یہ تو صاف نظر آنے والی باتیں ہیں اس میں فکر کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔غور اور تدبر کا مقام نہیں ہے، تو صاف یہ مضمون سمجھ آ جانا چاہئے تھا۔چنانچہ فرمایا کہ جب یہ لوگ بار بار نظر آنے والی چیزوں کو دیکھنے کے باوجود ان کا پیغام سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔تو ان کی یہ حالت ہو جاتی ہے۔صُمٌّ بُكْمٌ عُنی کہ گونگے بہرے اور اندھے ہو جاتے ہیں۔گویا حواس خمسہ ہیں تو سہی لیکن اندر کوئی پیغام نہیں پہنچاتے۔مختل“ ہو چکے ہوتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں کہ لَا يَعْقِلُونَ عقل نہیں کرتے۔تو عقل سے مراد یہ ہے کہ حواس خمسہ سے جو ظاہری دکھائی دینے والی چیزیں ہیں، وہ بظاہر نظر آتے ہوئے بھی پھر آدمی ان سے استفادہ نہ