خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 162 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 162

خطبات طاہر جلد ۹ 162 خطبہ جمعہ ۳۰ / مارچ ۱۹۹۰ء جائے یہ ناممکن بات ہے۔یہ بے وقوفی والی بات ہے۔پس اس پہلو سے لقاء کے مضمون کو اپنی توفیق کے مطابق سمجھنے اور اپنی توفیق کے مطابق اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔لقاء تو ہر جگہ ہر صورت میں ممکن ہے۔جہاں آپ کی نظر پڑے وہاں خدا کی لقاء ہو سکتی ہے۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ خدا ہر جگہ ہے تو اس کا ایک تو وہ تصور ہے جو ظاہری شش جہات کا تصور ہے لیکن خدا کے معاملے میں یہ تصور اس سے بہت زیادہ گہرا ہے اور غور طلب ہے۔خدا ہر جگہ کا مطلب یہ ہونا چاہئے اور یہ ہے کہ جہاں بھی آپ نگاہ ڈالیں ، جہاں بھی آپ غور کریں وہاں آپ کو خدا دکھائی دینا چاہئے اور اگر نہیں دیتا تو اس حصے میں آپ لقاء سے محروم ہیں۔لقاء کے متعلق یاد رکھیں کہ عام انسانوں کی لقاء بھی آسان نہیں ہوا کرتی، ملنے کے باوجود آپ اجنبی رہا کرتے ہیں۔بہت سے ایسے آدمی ہیں جن کی مردم شناسی کی نظر کمزور ہوتی ہے۔بعض لوگوں کی صحبت میں وہ عمریں گزار دیتے ہیں لیکن وہ ان کو دکھائی نہیں دیتے۔ایسے نامردم شناس انبیاء کے زمانے میں بھی پیدا ہوتے ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی مے کی وحی لکھنے والا ایک کا تب اس قسم کا آنکھوں کا اندھا تھا۔ظاہری طور پر فن کتابت سے واقف اور وحی لکھنے والا یعنی اس سے زیادہ مقدس اور کیا چیزلکھی جاسکتی ہے اور اس کے باوجود بصیرت سے عاری ، آنحضرت ﷺ کو ظاہری آنکھ سے دیکھتار ہا لیکن باطن کی آنکھ سے نہیں دیکھ سکا۔یہ تو خیر بہت ہی بلند مقام کی بات ہے عام روز مرہ کے تجربے میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ بہت سے آدمیوں سے آپ شناسا ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم جان چکے ہیں لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ رفتہ رفتہ مختلف زاویوں سے اس کا مطالعہ کرتے ہیں مختلف مواقع پر اس سے واسطے پڑتے ہیں۔اس کی اچھائی اور برائی کا مضمون آپ پر کھلتا چلا جاتا ہے اور بسا اوقات تو بیویاں بھی ہمیشہ خاوند سے واقف نہیں ہوا کرتیں اور پوری طرح واقف نہیں ہوا کرتیں اور بسا اوقات خاوند بھی اپنی بیویوں سے پوری طرح واقف نہیں ہوا کرتے۔کئی عورتیں بے چاری ہمیشہ اس احساس میں گھل گھل کے زندگی بسر کرتی ہیں کہ ہمارے خاوند کو ہماری خوبیوں کا پتا ہی نہیں اور وہ سب کچھ فدا کرتی ہیں ان کے لئے اچھی سے اچھی زندگی کی راحتیں مہیا کرتی ہیں۔لیکن وہ خاوند اندھی آنکھ سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔اس کو ان چیزوں کا ذوق ہی نہیں ہوتا۔پس لقاء کا ذوق سے بڑا گہرا تعلق ہے۔اعلیٰ چیز کی لقاء کے لئے ذوق بلند کرنا پڑتا ہے اور