خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 158
خطبات طاہر جلد ۹ 158 خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۹۰ء خلاف کسی رسالے یا اخبار میں کوئی خبر شائع ہوتی ہے فوراًوہ لوگ جوابی کارروائی کرتے ہیں چنانچہ اسی ضمن میں ایک بہت اہم ہندو اخبار کے ایڈیٹر تھے اُن سے ملاقات کی ، گھنٹہ ملاقات جاری رہی اُس نے جماعت احمدیہ کے متعلق تمام زاویوں سے ایک اندازہ لگایا ، گہرے سوال کئے اور آخر پر اُس کا تاثر یہ تھا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ زمانہ جماعت احمدیہ کے غلبے کا زمانہ ہے۔اب وہ ایک صاحب بصیرت انسان ہے اس پہلو سے اُس نے یہ بات کہی۔پس یہ بات تو بہر حال سچی ہے لیکن اس لئے نہیں کہ اُس نے کہی ہے بلکہ اس لئے کہ خدا کی تقدیر ہمیں یہ بات ہمارے افق پر لکھی ہوئی دکھا رہی ہے اور اس نے افق کی تحریر پڑھی ہے اس کی پیشگوئی پوری نہیں ہوگی خدا کی تقدیر پوری ہوگی لیکن پڑھنے والے افق کی تحریریں پڑھ لیا کرتے ہیں۔جو صبح صادق کے آثار دیکھ کر یہ پیشگوئی کر دیں کہ دن ضرور طلوع ہوگا، دن تو ضرور طلوع ہوتا ہے لیکن اُن کی پیشگوئی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے کہ انہوں نے صبح صادق کے آثار کو دن چڑھنے سے پہلے دیکھ لیا ہوتا ہے۔پس اس وقت دنیا میں ایسے ممالک میں بھی جہاں جماعت کی تعداد بہت تھوڑی ہے اور غیروں کا بہت وسیع غلبہ ہے جیسے ہندوستان ہے وہاں کے باشعور لوگ بھی آج اُن آثار کو پڑھنے لگے ہیں جو کل کے مستقبل کے جماعت احمدیہ کے عظیم غلبہ کی خبر دے رہے ہیں۔پس اس رمضان میں اُس غلبہ کے لئے بھی تیاری کریں اور جہاں لقاء کی دعائیں مانگیں وہاں یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کثرت سے ساری دنیا میں صاحب لقاء بندے پیدا کر کے خدا کے حضور تحفے کے طور پر پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔