خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 151
خطبات طاہر جلد ۹ 151 خطبه جمعه ۲۳ مارچ ۱۹۹۰ء دوسرے فرقے خواہ وہ اسلام سے تعلق رکھتے ہوں یا دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہوں وحی کے منکر ہو چکے ہیں اور قرآن کریم کے مطابق لقاء کے منکر ہو چکے ہیں اور جو لقاء کا منکر ہو جائے اُس کے نظر آنے والے نیک اعمال خدا تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن ضائع کر دیئے جائیں گے اُن کی کوئی بھی حقیقت نہیں کیونکہ مقصود تو محبوب ہے۔ اگر محنت محبوب کی طرف نہیں لے کر جارہی اور محبوب کی لقاء کی تمنا نہیں کی جا رہی تو اُس محنت کے کوئی معنی نہیں ۔ وہ تو پتھر سے سر ٹکرانے والی بات ہے۔ پس محنت اپنی ذات میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی ۔ نیک اعمال اگر محنت ہیں تو ایسی محنت ہیں جن کا رُخ کوئی نہیں۔ وہ خدا کی محبت میں نہیں کی جارہی ، خدا کی طرف بڑھنے کے لئے نہیں کی جا رہی ۔ پس یہ جو رمضان مبارک آ۔ آنے والا ہے اس میں لقاء کے مضمون کو اس ماء کے مضمون کو اس طرح پیش نظر رکھیں جس طرح میں نے بیان کیا ہے اور خدا تعالیٰ سے غیر معمولی طور پر یہ التجاء کریں کہ اے خدا! ہمیں سب دنیا میں صاحب لقاء بنادے۔ ہم دعوے تو کرتے ہیں کہ ایک سو بیس ممالک میں پھیل گئے ہیں مگر اگر ایک سو بیس میں صاحب لقاء نہیں تو آخر حقیقت میں ہمارے ایک سو بیس ممالک میں وجود ثابت نہیں ہو سکتا۔ حقیقت میں ہم ایک سو بیس ممالک میں تب پائے جائیں گے جب ہر ملک میں ایسے صاحب لقاء بندے پیدا ہو جائیں گے جن کو قطب کہا جاتا ہے، جن کے اوپر زمین آسمان کھڑے کئے جاتے ہیں، جن کے سہارے سے باقی دنیا چلتی ہے۔ پس ایسا صاحب لقاء بننے کی کوشش کریں پھر دیکھنا کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ان رحمتوں اور برکتوں میں کتنی تیزی آجاتی ہے جو ہم پر اس سال گزشتہ میں نازل ہوئی ہیں۔ دو تین تازہ باتیں ہیں جو اس سلسلے میں آپ کے سامنے بیان کرنی تھیں۔ ایک تو اس سفر سے تعلق رکھتی ہے جو ابھی میں نے حال ہی میں کیا اور گزشتہ سال تشکر کے سال کا یہ آخری سفر تھا جس میں فرانس سے گزرتے ہوئے پہلے تو پرتگال گئے اور پھر پرتگال سے سپین اور سپین سے پھر واپس فرانس کے رستے واپس پہنچے۔ پرتگال جیسا کہ آپ جانتے ہیں ایک ایسا ملک ہے جہاں صرف دو سال پہلے ایک مبلغ کو بھیجا گیا تھا مولانا کرم الہی صاحب ظفر کو اور جیسے وہ درویش صفت انسان ہیں اُسی طرح کے وہ دعا گو ہیں اور بہت دعائیں کر کے کام کرنے والے ہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے اُن کی دعاؤں کو پھل لگایا اور اس وقت تک جب میں گیا ہوں خدا تعالیٰ کے فضل سے نوبیعتیں وہاں ہو چکی