خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 146 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 146

خطبات طاہر جلد ۹ 146 خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۹۰ء زندگی ملی۔یہ تفاصیل جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ساری دنیا کے ایک سو ہیں ممالک پر پھیلی پڑی ہیں اور ان کا اگر بہت ہی معمولی خلاصہ بھی نکال کر پیش کرنے کی کوشش کی جائے تو جیسا کہ آپ نے گزشتہ جلسے میں دیکھا تھا کئی گھنٹوں میں بھی اُس خلاصے کا حق بھی ادا نہیں ہوسکا۔پس اس پہلو سے میں اس خطبے میں تفصیل سے تو اس بات پر روشنی نہیں ڈالوں گا کہ اس گزشتہ اظہار تشکر میں جماعت احمدیہ کو کیا کچھ ملا اور کیسے کیسے ملا لیکن آخر پر چند باتیں آپ کے سامنے ایسی رکھوں گا جو تازہ خبروں سے تعلق رکھتی ہیں۔یہ آیت جس کی میں نے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے۔اے انسان اِنَّكَ كَادِ مح إلى رَبَّكَ كَدْحًا تجھے یقینا خدا کے حضور محنت کر کے پہنچنا ہے اور اس راہ میں کوشش کرنی ہے اور اس کے نتیجے میں ہم تمہیں خوشخبری دیتے ہیں فَمُلقِیه ایسی صورت میں تم اپنے رب کو پالو گے۔یہ رمضان مبارک جو قریب آ رہا ہے اس کے پیش نظر سے میں نے اس آیت کا انتخاب کیا کہ اس رمضان مبارک میں جہاں خدا تعالیٰ کے حضور غیر معمولی جذبات تشکر کا اظہار کریں وہاں اُس سے لقا کی دُعا مانگیں اور یہ عرض کریں کہ ہم تیرے حضور محنت تو کرتے ہیں، کوشش کرنے کا عہد کرتے ہیں لیکن لقا کا معاملہ صرف ہماری خواہش سے تعلق نہیں رکھتا نہ ہماری محنت تک محدود ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک تو پردہ نہ اٹھائے ہماری لقا ممکن نہیں ہے۔اس لئے تو اپنے فضل کے ساتھ ہماری لقا کے سامان پیدا کر۔یہاں لفظ گڈ گا خاص توجہ کا مستحق ہے۔اِلى رَبِّكَ كَدْحًا کا ایک معنیٰ ہے سخت محنت کرنا اور جب ساتھ گنگا دُہرایا جائے تو اس کا معنی یہ بن جائے گا کہ بہت ہی سخت محنت کرنا۔محنت کو اپنی انتہا ء تک پہنچا دینا۔پس اول تو لقا کا مضمون چونکہ انسانی عبادت کا معراج ہے اس لئے لازماً جتنی بلند چوٹی ہو اتنی ہی زیادہ محنت درکار ہوا کرتی ہے۔تو قرآن مجید نے یہاں اِنک كَادِحَ إِلى رَبَّكَ كَدْحًا کہ کر یہ فرما دیا کہ عام دنیا کی ملاقاتوں کے لئے تم ترستے ہو اور بعض اوقات بڑی محنتیں کرنی پڑتی ہیں۔شیریں فرہاد کا قصہ آپ نے سُنا ہے۔فرہاد ایک نہر کھینچ لانے کے لئے اپنی ساری عمر گنوا بیٹھا اور پتھروں کے ساتھ تیشے مار مار کے اُس نے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جو تمام ہندو پاکستان کی تاریخ میں ایک ضرب المثل بن چکا ہے یعنی اس کارنامے کی وجہ سے فرہاد کا نام ضرب المثل بن چکا ہے لیکن پھر بھی اس کو لقاء نصیب نہیں ہوئی۔پس دنیا کی خاطر بسا اوقات انسان