خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 140
خطبات طاہر جلد ۹ 140 خطبہ جمعہ ۱۶ مارچ ۱۹۹۰ء اقدار کے تابع ہو جائے گا اس لئے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ بہت تیزی کے ساتھ اس قوم میں کام کرنے کی ضرورت ہے اور ابھی جو وقت میسر ہے اس کو غنیمت سمجھیں ورنہ دیکھتے دیکھتے مغربی اور مادہ پرست تہذیب ان پر مزید اس طرح غالب آجائے گی کہ پھر یہاں کام کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔جیسے ہمیں یورپ کے دیگر علاقوں میں مشکلات اور دقتیں پیش آرہی ہیں۔اسی طرح آپ کے لئے بھی وقتیں پیش آئیں گی اور کام پہلے سے مشکل ہو جائے گا۔پس اس پہلو سے کچھ نصیحتیں میں نے پید رو آباد کی مسجد میں جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے کی تھیں ان کوملحوظ رکھیں اور کچھ مزید آپس میں بیٹھ کر مشورے کیا کریں۔ایک خاندان کی طرح سر جوڑ کر بیٹھا کریں اور آپس میں ایک دوسرے کے سامنے اپنے مسائل رکھا کریں، ان کے حل تلاش کرنے میں ایک دوسرے سے مدد مانگا کریں اور جہاں جہاں خدا نے آپ کو کوئی اچھا بصیرت کا نکتہ سمجھایا ہوا ہو وہاں وہ دوسروں کو سمجھایا کریں۔اپنے تجارب سے جہاں خود فائدہ اٹھاتے ہیں، دوسروں کو بھی فائدہ پہنچا ئیں اور اس طرح جماعت مل کر بڑی تیزی کے ساتھ آگے قدم بڑھانا شروع کرے۔سپین کے ایک دوست جو مجھے ملنے آئے انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا۔وہ مسلمان ہو چکے ہیں اور کافی عرصے سے مسلمان ہیں لیکن ابھی جماعت احمدیہ سے ان کا تعلق نہیں لیکن جماعت سے گہری محبت رکھتے ہیں اور دن بدن ان کی محبت بڑھ رہی ہے۔انہوں نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ آپ کی جماعت میں میں نے بہت سی خوبیاں دیکھی ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ یہ جماعت آئندہ اسلام کے لئے عظیم کردار ادا کرے گی لیکن تبلیغ سے غافل ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس جماعت کو لوگ بیرون سے آئی ہوئی ایک جماعت سمجھتے ہیں اور جس تعداد میں سپینش احمدی ہونے چاہئیں اس تعداد میں تو درکنار اس کا ایک حصہ بھی موجود نہیں۔یعنی چالیس پچاس احمدی جو اس وقت ہیں وہ بھی سپین میں موجود نہیں، کچھ اردگرد پھیل گئے، کچھ عدم تربیت کا شکار ہو گئے اور عملاً ٹھوس کام کرنے والوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔پس انہوں نے کہا کہ سپین میں آپ کو اندازہ نہیں کہ کس طرح لوگ ایک قومی تعصب نہیں تو قومی جذبے سے متاثر ہیں اور وہ غیر قوموں کو خواہ وہ اچھا پیغام بھی دیں بہر حال غیر قو میں سمجھتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ آپ جلد سے جلد سپینش احمدی پیدا کریں اور وہ آپ کی آواز آگے قوم تک پہنچائیں تا کہ قوم یہ سمجھے کہ یہ ہماری آواز ہے۔