خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 136
خطبات طاہر جلد ۹ 136 خطبہ جمعہ ۱۶/ مارچ ۱۹۹۰ء یہ دونوں نظام اپنی جگہ قابل تعریف ہیں، قابل ستائش ہیں اور ان کو دیکھ کر انسان کا سران لوگوں کی عظمت کے سامنے تعریف کے رنگ میں جھکتا ہے۔مگر حقیقت میں تو انسان کا سر عظمت کے لحاظ سے تو صرف خدا کے سامنے جھکنا چاہئے اور اس پہلو سے جو مضمون میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اسے خوب اچھی طرح ذہن نشین اور دل نشین کرنا چاہئے۔ایک مسلمانوں کی قوم کی ظاہری عظمت تھی جس کے آثار باقیہ یہاں دکھائی دیتے ہیں اور ایک اسلام کی تعلیم کی عظمت ہے جو ان علاقوں سے بالکل مٹائی جاچکی ہے۔پس جو روح تھی وہ تو غائب ہو گئی اور جسم کے نشان اس طرح ملتے ہیں جیسے ہزاروں سال کے فراعین مصر کی ممیاں موجود ہوں۔جب روح باقی نہ رہے تو جسم کی عظمت کی کوئی حقیقت نہیں رہا کرتی۔پس سپین کی سرزمین در حقیقت عبرت کا ایک نشان ہے۔وہ لوگ جو آج بھی ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ اسلامی جہاد کا معنی تلوار کا جہاد ہے اور تلوار کے زور سے علاقوں کو فتح کرنا اور قوموں کو اسلام کو تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہی دراصل حقیقی اسلامی جہاد ہے ان کے لئے یہ پین کا علاقہ ہمیشہ کے لئے ایک عبرت کا نشان پیش کرتا ہے اور ان کو بانگ دہل یہ بتاتا ہے، بڑے زور سے اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ تلوار کی عظمت کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔تلوار کی عظمتیں تلواروں کے ذریعے توڑ دی جاتی ہیں اور حقیقی عظمت پیغام ہی کی عظمت ہے اور محبت کی عظمت ہے اور عقل اور حکمت کی عظمت ہے جو ہمیشہ باقی رہا کرتی ہے۔پس آپ دیکھیں کہ وہ علاقہ جو مسلمانوں نے پیغام کے ذریعے فتح کئے تھے۔آج تک اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ خدا اور رسول کے پیاروں کی عظمت کے گیت گا رہے ہیں۔آپ انڈونیشیا چلے جائیں ، آپ ملائیشیا چلے جائیں ، آپ چین کے ان علاقوں میں جا کر سیر کریں جہاں مسلمانوں نے پیغام پہنچا کر یعنی قرآن کریم کا پیغام پہنچا کر لوگوں کے دل اور دماغ جیتے تھے پھر آپ روس کے ان علاقوں کی سیر کر کے دیکھیں جو تلوار سے فتح نہیں ہوئے بلکہ پیغام سے فتح ہوئے تھے۔پھر آپ چینی ترکستان اور اس سے ملحقہ علاقوں کو جا کر دیکھیں ،منگولیا کے علاقوں کو دیکھیں جہاں سے فاتح آئے تھے انہوں نے اسلام کی سر زمینیں فتح کی تھیں لیکن اسلام نے ان کے دل فتح کر لئے ، آج تک باوجود اس کے کہ بہت ہی ناسازگار حالات رہے، باوجود اس کے کہ دھر یہ حکومتیں ان بعض علاقوں میں قائم رہیں۔اسلام کا نام مٹانے سے وہ کلینتہ قاصر رہے اور