خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 8
خطبات طاہر جلد ۹ 8 خطبہ جمعہ ۵/جنوری ۱۹۹۰ء اور جب تک پہلے حفاظت کا انتظام نہ ہو اس وقت تک انسان کا حق نہیں ہے کہ ہر اچھی چیز کو اکٹھا کرنا شروع کر دے۔ایک طرف سے اکٹھا کر رہا ہو ، دوسری طرف سے ضائع کر رہا ہو۔یہ رزق کی بے احترامی ہے تو فرمایا ! ہم نے پہلے اس کو حفاظت کا سلیقہ سکھایا پھر کہا ہاں اب جاؤ اور اچھے اچھے پھلوں پر منہ مارو اور بعینہ یہی چیز ہے جو شہد کی مکھی کرتی ہے۔دنیا میں جس طرف آپ نظر دوڑائیں۔پہاڑوں کی مکھیوں کو دیکھیں ، درختوں پر چھتے بنانے والیوں کو دیکھیں ، بیلوں میں چھتے بنانے والیوں کو دیکھیں سب کا یہی طریق ہے اور اسی سنت پر وہ عمل پیرا ہیں کہ پہلے شہد کی حفاظت کا انتظام کرتی ہیں۔پھر وہ پھلوں کی طرف اور پھولوں کی طرف مائل ہوتی ہیں۔پھر فرمایا: فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلاً اس آیت کے حصے نے اس مضمون کو خوب کھول دیا ہے کہ یہاں دراصل اعلیٰ درجے کے انسان مراد ہیں۔یہ انسان ہے جسے صاحب شریعت بنایا گیا اور جس کو اعلیٰ درجے کی چلنے کی راہیں عطا کی گئیں اور سمجھائی گئیں۔مذہب کا مطلب ہی راہ ہے، راستہ ہے۔صراط مستقیم آپ سورہ فاتحہ میں روزانہ کئی کئی مرتبہ پڑھتے ہیں۔تو سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلا سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو تعلیم دی ہے ، اس تعلیم پر عمل کرنا۔اگر اس تعلیم پر عمل نہیں کروگی تو پھر یہ جو فائدہ تم اپنے لئے اٹھانے لگی ہو اور غیروں کے لئے فائدے کا موجب بننے والی ہو،اس سے محروم رہ جاؤ گی۔صرف پھل کھانا کافی نہیں۔اس طریق پر پھل کھانا اور پھولوں کا رس چوسنا ضروری ہے جس طریق پر قرآن کریم نے ہدایت فرمائی ہے۔یا الہی کتب ہدایت فرماتی ہیں تو یہ مثال بیک وقت شہد کی مکھی پر بھی اطلاق پاتی چلی جاتی ہے اور مومنوں کی جماعت پر بھی اطلاق پاتی چلی جاتی ہے۔يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفُ اَلْوَانهُے۔ان کے پیٹوں سے پھر ایسی غذا نکلے گی جس کے رنگ مختلف ہوں گے۔یعنی بظاہر وہ ایک ہی جیسے پھول ہوں گے جن کی وہ روح چوس رہی ہوں گی۔جن کا رس چوس رہی ہوں گی اور ایک جیسے ہی پھل ہوں گے لیکن ان کے پیٹوں سے انہضام کے بعد جو چیز نکلے گی وہ مختلف رنگوں کی ہوگی۔فِيهِ شِفَآءٌ لِلنَّاسِ اس میں بہت ہی عظیم الشان شفاء بنی نوع انسان کے لئے رکھ دی گئی ہے۔کلام الہی کو بھی شفاء کہا گیا ہے۔کلام الہی کا جو خلاصہ ہے یعنی سورہ فاتحہ اس کا ایک نام شفاء بھی ہے۔تو در حقیقت یہ مثال شہد کی مکھی کے نام پر دی گئی لیکن اس کا اعلیٰ اطلاق ان قوموں پر ہوتا ہے جو وحی کی