خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 7
خطبات طاہر جلد ۹ 7 خطبه جمعه ۵ /جنوری ۱۹۹۰ء تو سوچو کہ ایک بشر کے اوپر جب وحی نازل ہوئی تو اس کی کیا حالت کر دے گی۔تو شہد کی مکھی کی مثال در اصل صاحب وحی انسانوں کی مثال ہے اور ان کا نقشہ شہد کی مکھی کی شکل میں کھینچا گیا ہے اور مومنوں کی جماعت کا بھی پورا نقشہ اس مثال میں آجاتا ہے۔فرمایا اس کو ہم نے وحی کی اور وحی یہ کی کہ سب سے پہلے کہ ہم تمہیں جو رزق عطا کرنے والے ہیں اور رزق کو مزید اعلیٰ درجے کے رزق میں تبدیل کرنے کا سلیقہ سکھانے والے ہیں۔وہ ایسا رزق ہے جو گندی جگہ پر نہیں رکھنا چاہئے۔اچھی چیز کی حفاظت کی جاتی ہے، اچھی چیز کا خیال رکھا جاتا ہے کہ ہر قسم کے گندے اثرات سے اس کو پاک رکھا جائے۔تو فرمایا کہ ہم نے اس سے کہا کہ یا پہاڑوں پر چلو جہاں فضاء پاک ہوتی ہے۔مٹی اور گند کم ہوتا ہے اور عموماً پہاڑوں کی فضا سب سے اچھی ہوتی ہے اور زمین کی سطح پر اس کے بعد پھر درختوں کی باری آتی ہے۔بڑے بڑے بلند درخت، ان کے اوپر اگر کبھی چڑھ کر آپ نے دیکھا ہو تو آپ کو معلوم ہوگا کہ زمین کی طرف نیچے دیکھیں تو درختوں پر چڑھ کر ایک نمایاں لطافت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔گویا انسان اونچی پاکیزہ فضا میں داخل ہو گیا ہے اور تیسرے درجے پر وہ بیلیں ہیں جو اگر اونچی جگہ چڑھانے کے لئے میسر نہ آئے تو زمین پر پھیلیں گی مگر مِمَّا يَعْرِشُونَ میں یہ نقشہ کھینچا کہ ان بیلیوں میں گھر بناؤ جن کو وہ اونچی عمارتوں پر چڑھاتے ہیں تو تینوں جگہ رفعت کا مضمون شامل ہے اور تینوں جگہ حفاظت کا مضمون شامل ہے کہ ایسی اعلیٰ غذا تمہیں عطا ہونے والی ہے جو نہایت لطیف ،نہایت اعلیٰ درجہ کی ہے اس کی حفاظت کا پورا انتظام کرو اور اونچی جگہوں پر اس کو بناؤ کیونکہ وہ اونچی جگہوں پر رکھنے کے لائق ہے۔چنانچہ قرآن کریم کے مضمون کے ساتھ بھی یہی مضمون باندھا گیا ہے رفعت کا مضمون کہ اونچی جگہوں پر پڑھا جانے والا کلام اور یہ مرفوع کلام ہے۔پس شہد کی مکھی کے ذکر میں دراصل الہام اور وحی کی روشنی میں پرورش پانے والی قو میں اور ترقی کرنے والی قومیں مراد ہیں۔پس فرمایا کہ پہلے تو ہم نے اس کو گھر کے متعلق نصیحت کی کہ یہ بہت ہی مقدس غذا تمہیں عطا ہونے والی ہے اس لئے اس کے لئے ہر قسم کے لوازمات کا اہتمام کرو۔اس کی حفاظت کا انتظام کرو۔پھر فرمایا۔پھر ہم نے اس سے کہا : كَلِي مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ جب حفاظت کا انتظام کر لوتو پھر غذا کھانی شروع کرو۔اس میں بڑا گہرا معرفت کا نقطہ ہے۔وہ لوگ جو اچھی چیزیں اکٹھی کرتے ہیں اور ان کی حفاظت کا انتظام نہیں کرتے وہ ان کو ضائع کر دیا کرتے ہیں