خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 120
خطبات طاہر جلد ۹ 120 خطبه جمعه ۲۳ فروری ۱۹۹۰ء کے تراجم کا انتظام ہو رہا ہے۔تو میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ اگلے چند سال کے اندر اندر پورے قرآن کریم کے تراجم کی تعداد ایک سو تک پہنچ جائے گی اور اگلے چند مہینے کے اندر انشاء اللہ پچاس سے تجاوز کر جائے گی۔پس جہاں تک تیاری کا تعلق ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود بخود کروائی ہے اور اس کا پاکستان سے میری ہجرت کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عَلَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ (البقرہ:۲۱۷) سنو! بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ تمہیں ایک چیز بری دکھائی دیتی ہے تکلیف دہ معلوم ہوتی ہے وَ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ لیکن وہ تمہارے لئے بہتری رکھتی ہے تمہارے لئے اس میں بھلائی پائی جاتی ہے۔اب آپ غور کر کے دیکھیں اگر پاکستان میں ہی میرا قیام رہتا ہے اور وہیں فعال مرکز رہتا تو اس صورت میں پچاس سال میں بھی ہمیں وہ توفیق نہیں مل سکتی تھی جو میرے باہر آنے کے نتیجے میں ہمیں ملی اور اس طرح دنیا کی بہت سی اہم زبانوں میں بلکہ اکثر اہم زبانوں میں نہ صرف قرآن کریم کے تراجم کرنے کی توفیق ملی بلکہ اور اسلامی لٹریچر تیار کرنے کی توفیق بھی ملی جس پر کام بڑی تیزی کے ساتھ جاری ہے۔پس جماعت احمدیہ کو یہ پکا ہوا پھل ملا ہے اور بہت سے پکے ہوئے پھل ابھی درخت پر پڑے ہیں شاخوں سے لٹک رہے ہیں ان کے لئے آپ کو کچھ تھوڑی سی محنت تو کرنی پڑے گی درخت کو ہچکولے تو دینے ہوں گے۔یہ خیال کہ لیٹے رہیں اور بیٹھے رہیں اور پاس پڑا ہوا بیر کوئی اور اٹھا کے آپ کے منہ میں ڈال جائے یہ تو افیموں والا خیال ہے۔ہم تو دنیا کو افیم سے نجات دینے والے ہیں نہ کہ خود افیمی بننے والے ہیں اس لئے اس جہت میں مزید حرکت کریں۔آپ میں سے ہر ایک جو بھی توفیق پاتا ہو اس توفیق کے مطابق ان قوموں سے اپنے تعلقات بڑھائے اور رابطے قائم کرے۔جرمنی سے بعض احمدی نوجوانوں کو توفیق مل رہی ہے۔وہ مجھے خط لکھتے رہتے ہیں اور پتا چلتا ہے۔مثلاً ہمارے سندھ کے ایک دوست منور خالد صاحب وہاں جرمن زبان بھی سیکھ رہے ہیں اور ساتھ روسی زبان بھی سیکھتے ہیں یا روسیوں سے تعلقات بہر حال ضرور ہیں۔زبان کا مجھے یاد نہیں رہا کہ انہوں نے ذکر کیا تھا کہ نہیں مگر ان کی دعوت وغیرہ کرتے رہتے ہیں۔ان سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔پھر دونوں اپنی جتنی بھی جرمن ان کو آتی ہے اس میں مذہبی تبادلہ خیالات کرتے ہیں اور ان کی رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ بہت تیزی کے ساتھ اور بڑی گہری دلچسپی لی جارہی ہے اور جہاں جہاں بھی