خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 119 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 119

خطبات طاہر جلد ۹ 119 خطبه جمعه ۲۳ فروری ۱۹۹۰ء میں قرآن کریم کی منتخب آیات کا روسی ترجمہ ہے ان تک پہنچا اور ان کو اس کے مطالعہ سے بے حد خوشی ہوئی کیونکہ وہ لکھتے ہیں کہ اس سے بہتر روسی زبان میں کبھی قرآن کریم کا ترجمہ نہیں کیا گیا۔تو یہ جو سب رابطے پیدا ہوئے ہیں یہ سارے ایک ہی مضمون کی کڑیاں ہیں اس لئے اگر کسی کے ذہن میں یہ وہم ہو کہ Friday the 10th کا اس دن پر اطلاق پا نا کوئی اتفاقی حادثہ ہے تو اس سے سارے مضمون کو سننے کے بعد کوئی بہت ہی متعصب ہوگا یا طفلانہ خیال کا حامل ہوگا جو یہ اصرار کرے کہ یہ اتفاقی حادثہ تھا۔اس دن اسلامی مہینے کا انگریزی مہینے کے ساتھ انطباق، اس دن جمعہ کا دن ہونا ، اس دن اس انقلابی سال کا سب سے بڑا انقلابی دن ہونا جس کے متعلق ساری دنیا نے کہا کہ یہ سال ایک غیر معمولی حیثیت کا حامل سال ہے اور تمام دوسرے اپنے اردگرد کے سالوں سے بہت ہی زیادہ نمایاں حیثیت رکھتا ہے اور پھر اس دن کا اس سال میں سے بھی چوٹی کی طرح ابھر آنا اور غیر معمولی حیثیت اختیار کر جانا اور اس سے پہلے حضرت مصلح موعود کا یہ رویا جس کی تعبیر ظاہر ہے کہ ہجرت کا مجھے موقعہ ملے گا اور اس ہجرت کے دوران روس سے رابطہ ہوگا اور پھر ساری خلافتِ احمدیہ کی تاریخ میں ایک ہی خلیفہ کا روس کے ساتھ رابطہ ہونا اگر یہ سارے اتفاقات ہیں تو پھر نظم وضبط کے ذریعے واقعات کا ترتیب پانا کچھ اور ہی معنی رکھتا ہوگا۔در حقیقت یہ ظاہر طور پر تقدیر ہے جس نے با قاعدہ ان واقعات کو منضبط کیا ہے اور ایک با قاعدہ ترتیب دی ہے اور تعلق جوڑے ہیں۔پس اس پس منظر کو بیان کرتے ہوئے جہاں میں آپ کو یہ خوشخبری دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر حرکت میں آچکی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں کے پورے ہونے کے دن قریب آرہے ہیں، وہاں ان کی ذمہ داریاں دوبارہ یاد کرا تا ہوں کہ ان قوموں سے جو روس کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہیں اسلامی رابطے قائم کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں۔ایک سوقو میں ہیں جو صرف روس میں ہیں، اس کے علاوہ روس کے ماحول میں جو روس کے سیٹلائیٹس کہلاتے تھے ، ان میں بھی مختلف زبانیں بولنے والی قومیں ہیں۔ابھی ہم نے اگر چہ چند زبانوں میں اسلامی لٹریچر کے ترجمے کئے ہیں لیکن وہ انتخاب ایسا ہے کہ شاذ ہی کوئی مشرقی بلاک کا ملک ہو جس میں جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کردہ لٹریچر سمجھا نہ جاسکتا ہو۔ایک دوز با نیں جو پیچھے رہ گئی تھیں ان میں بھی اب تراجم ہورہے ہیں۔جہاں پہلے صرف انتخابات شائع ہوئے تھے وہاں اب پورے قرآن کریم