خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 116 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 116

خطبات طاہر جلد ۹ 116 خطبه جمعه ۲۳ فروری ۱۹۹۰ء ایران کے لئے مبلغ مقرر ہوئے تھے اور محمد امین خان صاحب اور مولوی ظہور حسین صاحب کے سپر دیہ کام تھا کہ یہ غیر قانونی طور پر، جس طرح بھی بس چلے ایران کی طرف سے روسی سرحد پار کر کے روس میں داخل ہو جائیں۔مولوی ظہور حسین صاحب مشہد میں بیمار ہو گئے اور وہاں رکنا پڑا۔مولوی محمد امین صاحب کچھ انتظار کے بعد ا کیلے ہی سفر پر روانہ ہو گئے اور بخیریت بخارا پہنچ گئے۔یہ وہی محمد امین خان صاحب ہیں جن کے ایک صاحبزادے بشیر احمد خان صاحب انگلستان کی جماعت کے فرد ہیں اور غالباً برمنگھم میں رہائش رکھتے ہیں۔مولوی ظہور حسین صاحب بعد میں جب اکیلے روس میں داخل ہوئے تو وہ بھی دس تاریخ تھی اور یہ دس دسمبر کا دن تھا۔آپ آر تھاک (Qrthak) پہنچے لیکن جب آپ بخارا جانے کے لئے ( یہاں طے ہوا تھا کہ یہ اور محمد امین خاں صاحب ملیں گے ) ریلوے سٹیشن پر پہنچے تو وہاں آپ کو گرفتار کر لیا گیا اور اس کے بعد پھر ایک لمبا دور آپ کو اذیتیں دینے کا شروع ہوا۔اسی حالت میں جب آپ قید تھے (چونکہ آپ کو رشین زبان نہیں آتی تھی، کوئی ساتھیوں سے رابطہ نہیں تھا ) تو آپ نے رویا میں دیکھا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ظہور حسین ! آپ جیل میں تبلیغ نہیں کرتے۔اس رویا سے وہ خدائی منشاء سمجھ گئے اور اپنے ساتھیوں سے روسی زبان سیکھنی شروع کر دی اور چونکہ کچھ مسلمان قیدی بھی ساتھ تھے اس لئے ان سے زبان بھی سیکھی اور ان کو تبلیغ بھی شروع کی۔چنانچہ سب سے پہلا روس میں جو احمدی ہوا ہے وہ جیل میں ہوا ہے اور اس طرح سنت یوسفی دہرائی گئی۔مولوی صاحب کو نمازوں میں منہمک دیکھتے اور جس طرح ان کی طبیعت میں غیر معمولی رقت پائی جاتی تھی (یہ انہوں نے کتاب میں تو ذکر نہیں کیا لیکن ہم جو بچپن سے ان کو جانتے ہیں۔ہمیں علم ہے کہ وہ بہت ہی رقیق القلب تھے اور جلد جذباتی ہو جایا کرتے تھے تو نمازوں میں بھی ان کی یہی کیفیت ہوا کرتی تھی) اس کا اور ان کی تلاوت کا ان کے ساتھیوں پر گہرا اثر ہوا اور اسی کے نتیجے میں ان کو زیادہ دلچسپی پیدا ہوئی۔ان کی کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ روس میں وہ شخص جو سب سے پہلے احمدی مسلمان ہوا ہے وہ عبداللہ خان تھا۔یہ عبداللہ خان تاشقند کا رہنے والا تھا اور اپنے علاقے کا بہت بڑا اور بارسوخ انسان تھا۔عبداللہ خان کے ذریعے پھر اور قیدیوں میں بھی احمدیت میں دلچسپی پیدا ہوئی اور کئی اور قیدیوں نے ان کی معرفت پھر بیعتیں کیں۔