خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 117 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 117

خطبات طاہر جلد ۹ 117 خطبه جمعه ۲۳ فروری ۱۹۹۰ء یہ واقعہ آپ جانتے ہیں ۱۹۲۴ء کا ہے۔اس کے بعد مولوی ظہور حسین صاحب کے ساتھ مرکز کا بھی رابطہ کچھ عرصہ کٹا رہا۔پھر جب وہ واپس آئے تو اس وقت اتنی ہوش نہیں تھی کہ بتائیں کہاں کہاں احمدی ہیں اور ان سے کس طرح رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے چنا نچہ رابطہ بالکل کٹ گیا اور رابطہ کٹنے کے باوجود مولوی ظہور حسین صاحب ہمیشہ اس بات پر مصر رہے اور اس بات کے قائل رہے کہ وہاں احمد یہ جماعتیں قائم ہو چکی ہیں جو قائم ہیں اور پھیل بھی رہی ہوں گی لیکن ہمیں ان کی تفاصیل کا کوئی علم نہیں تھا۔سب سے پہلے جب مجھے روس میں جماعت احمدیہ کے متعلق جو علم ہوا ہے وہ ایک روسی انسائیکلو پیڈیا کے مطالعہ سے ہوا جو انگلستان سے غالبا بشیر احمد صاحب رفیق نے یا کسی نے معلوم کر کے مجھے مطلع کیا کہ یہاں ایک روسی انسائیکلو پیڈیا شائع ہوا ہے جس میں جماعت احمدیہ کے اوپر ایک روسی سکالر نے مقالہ لکھا ہے اور اس مقالے میں احمدیت کے متعلق کئی قسم کی باتیں درج ہیں۔چنانچہ میں نے تحقیق کر کے اس مقالے کو حاصل کیا اور اسی کے انگریزی اور اردو میں تراجم کروائے اور ان تراجم سے بعض بہت دلچسپ باتیں سامنے آئیں۔ان میں سے ایک یہ تھی کہ روسی مقالہ نگار نے بڑی تحدی کے ساتھ یہ لکھا کہ روس میں بھی احمد یہ جماعتیں موجود ہیں لیکن ان کا تعلق اپنے مرکز سے کٹ چکا ہے اور اس کی وجہ مقالہ نگار نے یہ بیان کی کہ ان کو غالباً اپنے مرکز سے یہ ہدایت ہے کہ روس میں رہتے ہوئے ہم سے تعلق نہ رکھو۔یہ بات تو غلط ہے۔غالباً انہوں نے اس بات کو چھپانے کے لئے یعنی اس پر پردہ ڈالنے کے لئے کہ روس نے مذہبی جماعتوں کو بیرونی دنیا سے تعلق رکھنے پر روکیں عائد کر رکھی ہیں یہ ایک بہانہ تراشا اور باوجود اس کے کہ یہ تسلیم کیا کہ جماعتیں موجود ہیں لیکن یہ بات غلط کہہ دی کہ مرکز نے گویا جماعتوں کو ہدایت دے رکھی ہے کہ ہم سے رابطہ نہ کرو۔اب سوال یہ ہے کہ ان سے رابطہ کیسے ہونا تھا اور خدا کی تقدیر میں کیا مقدر تھا۔اس بات کو بیان کرنے کے لئے آپ کو میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک رؤیا بتا تا ہوں۔اس رویا میں حضرت مصلح موعود یہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ہمارے ملک میں حالات خطرناک ہو چکے ہیں اس قسم کے ہو گئے ہیں کہ مجھے وہاں سے ہجرت کرنی پڑ رہی ہے اور اس ہجرت کے دوران میری گود میں میرا ایک بچہ ہے جس کا نام طاہر احمد ہے اور اس کے علاوہ اور کوئی بچہ ساتھ نہیں۔اس ہجرت کے دوران میں ایک نئے ملک میں پہنچتا ہوں اور اس ملک میں داخل ہو کر میں