خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 110 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 110

خطبات طاہر جلد ۹ 110 خطبہ جمعہ ۶ ار فروری ۱۹۹۰ء جائزہ لیا تو یہ بات دیکھ کر حیران رہ گئے کہ دنیا کا کوئی آلہ ابھی موسم کی تبدیلی کا حال جانچ نہیں سکتا تھا کوئی علامت نہیں پکڑ سکتا تھا لیکن اس کی بیماری اس علامت کو پکڑ لیا کرتی تھی اور جب وہ بیماری کے آثار ظاہر ہوتے تھے تولا ز ما موسم میں وہی تبدیلی پیدا ہوتی تھی جو اس تبدیلی سے پہلے وہ بیماری اس کو پکڑ لیتی تھی۔تو خدا تعالیٰ نے تو Consciously یعنی باشعور طور پر بھی اور غیر شعوری طور پر بھی انسان کے اندر یہ طاقتیں پیدا فرمائی ہیں کہ وہ حالات کا جائزہ لے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ گناہ جڑ پکڑ رہے ہوں طغیانیاں آہستہ آہستہ سر اٹھا رہی ہوں اور کسی صاحب بصیرت کو، کسی آنکھوں والے کو کچھ دکھائی نہ دے۔جو خاندان ہلاک ہوتے ہیں جن کی بچیاں آزاد ہو کے گھروں سے نکل جاتی ہیں وہ خاندان جن کی اولادیں ان کے لئے کسی نہ کسی طرح ذلت کا موجب بنتی ہیں ان کا یہ کہنا اچانک یہ ہو گیا ، ہم بے بس ہیں بالکل جھوٹ ہے۔طغیانی کا مضمون ہر جگہ بالکل اسی طرح صادق آتا ہے جس طرح بیرونی دنیا میں صادق آتا ہے۔ایک دن میں طغیانی نہیں ہوا کرتی اور خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ہم مہلت دیتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ حدوں سے تجاوز کر جاؤ، یہ بتاتا ہے کہ بہت لمبا عرصہ ان چیزوں کے پیدا ہونے اور اپنے پایہ تکمیل تک پہنچنے میں لگتا ہے۔پس کسی کے لئے یہ کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا کہ جی ہم اچانک پکڑے گئے۔چھوٹے بچے جب سکول جاتے ہیں اور واپس آ کے کچھ حرکتیں کرتے ہیں تو ہر صاحب بصیرت کے لئے اس میں ایک انتباہ ہوتا ہے۔اسی وقت وہ پہچان سکتا ہے کہ اس بچے کا رخ کس طرف ہو چکا ہے۔چنانچہ بعض مائیں جو ذہین ہیں اور ان باتوں کا خیال کرتی ہیں ، بعض دفعہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچے ، دو دو، تین تین سال کے میرے پاس لے کے آئی ہیں کہ اس میں یہ بات پیدا ہو رہی ہے۔جب ٹیلی ویژن دیکھتا ہے تو حرکت کرتا ہے۔جب کنڈرگارٹن جاتا ہے تو یہ حرکت کرتا ہے اور ہمیں فکر پیدا ہوگئی ہے۔وہ بالکل معمولی سی بات ہوتی ہے اور میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں که کیسی پاکیزہ اور کیسی اعلیٰ اور کیسی ذہین مائیں خدا تعالیٰ نے احمدیت کو بخشی ہیں۔پھر ان کو میں سمجھاتا ہوں کہ یہ طریق اختیار کریں۔یہ کریں۔چنانچہ یہیں انگلستان میں ایک ایسی ماں اپنے بچے کو لے کے آئی کہ یہ حرکت کرتا ہے۔مجھے اس سے بڑی فکر پیدا ہوگئی ہے میں نے اسے سمجھایا۔اس کے بعد دوبارہ پھر چند مہینے یا ایک سال کے بعد وہ خاندان آیا اور انہوں نے بتایا کہ اللہ کے فضل سے اب