خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 106
خطبات طاہر جلد ۹ یہ انکار ضروری تھا۔ والا 106 خطبه جمعه ۱۶ فروری ۱۹۹۰ء جہاں تک قرآن کریم کے مضمون کا تعلق ہے۔ فی ذاتہ یہ بات غلط قرار نہیں دی جاسکتی کہ طاغوت کے انکار کے بغیر کامل ایمان میسر نہیں آسکتا اس میں کوئی شک نہیں لیکن اگر واقعہ طاغوت کا انکار ہوا ہو تو جو ایمان نصیب ہوتا ہے اس کی تصویر قرآن کریم نے کھینچی ہے کہ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا (البقره: ۲۵۷) وہ ساری قوم ایک وجود بن جایا کرتی ہے جو ہر قسم کی طاغوتی طاقتوں کا انکار کر دیتی ہے اور پھر ایمان لاتی ہے اور اس طرح توحید سے چمٹ جاتی ہے کہ اس کے لئے اس سے الگ ہونا ممکن ہی نہیں رہتا۔ ہمیشہ کے لئے تو حید اس کے وجود کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہ ہے نتیجہ جو قرآن کریم نے نکالا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے انکار کے نتیجے میں ان کو جو تو حید ملی اس توحید کا نقشہ بھی قرآن کریم نے ہی کھینچا ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے ۔ تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَ قُلُوبُهُمْ شَتَّى (الحشر : ۱۵) کیسی بد نصیب تو حید ان کو حاصل ہوئی کہ دیکھنے یہ سمجھتا ہے کہ یہ ایک ہو گئے ہیں انکار اور کفر اور ظلم کے نتیجے میں ، دشمنی کے نتیجے میں یہ ا کٹھے ہوئے ہیں اور چونکہ نفرت کے نتیجے میں اکٹھے ہوئے ہیں خود نفرت کا شکار ہیں محبت کے نتیجے میں اکٹھے نہیں ہوئے بلکہ نفرت کے نتیجے میں اس طرح اکٹھے ہوئے ہیں کہ ہر دل پھٹا ہوا ہے۔ قرآن کریم نے جو کسوٹی پیش کی ہے اس کسوٹی پر آپ اس قوم کو پرکھ کر دیکھیں تو آپ حیران ہوں گے کہ نہ صرف یہ کہ واقعہ یہ اس وقت بھی پھٹے ہوئے تھے جب جماعت احمد یہ کو الگ کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تکذیب کے نتیجے میں ایک وحدت کا اعلان کیا تھا یعنی مذہبی لحاظ سے اس وقت بھی پھٹے ہوئے تھے بلکہ اس کے بعد ہر دوسری جہت سے بھی پھٹنے لگے ۔ کوئی ایک پہلو بھی پاکستانیوں کی شخصیت کا ایسا نہیں رہا جس میں پھر درزیں نہ پڑنی شروع ہوں مزید رخنے نہ پیدا ہونے شروع ہوئے ۔ بکھرتے چلے جارہے ہیں جس طرح شیشہ ٹوٹتا ہے تو کہتے ہیں کہ کرچی کرچی ہو گیا یہ تو بد نصیب ملک ہے جو کرچی کرچی ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ مذہبی وحدت کا تو یہ حال ہے کہ ہر فرقہ ایک دوسرے کے خلاف عناد میں دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ جماعت احمد یہ کے خلاف ہر قسم کا گند جو سفا کا نہ رنگ میں شائع کیا جاتا ہے ، اس کو ایک طرف چھوڑ دیجئے ۔ کل ہی مجھے وہاں سے بعض اشتہارات ملے ہیں جو شیعوں کے خلاف ہیں اور ایسی