خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 6 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 6

خطبات طاہر جلد ۹ 6 خطبه جمعه ۵ /جنوری ۱۹۹۰ء کے جانور ہیں ایک سب سے ادنی نہیں تو عام ادنی جانوروں میں شمار ہوتا ہے اور ایک سب سے اعلیٰ۔سب سے نچلے درجے کے جانوروں میں جو شمار ہوتا ہے، اس کو ادنی غذا ملتی ہے اور اس سے وہ کیسی پاکیزہ چیزیں بنا کر تمہارے فائدے کے لئے پیش کرتا ہے اور تم جو اعلیٰ درجے کے شمار ہوتے ہوسب سے اعلیٰ غذائیں کھا کر پھر ان کو ادنیٰ حالتوں میں تبدیل کر دیتے ہو۔اس کے بعد شہد کی مکھی کی جو مثال دی ہے وہ دراصل ایک مثال ہے جو اعلیٰ درجے کے انسانوں پر صادق آتی ہے۔شہد کی مکھی کا ذکر انسانوں کے بعد رکھنا، انسانوں میں سے اعلیٰ درجے کے انسانوں کی مثال کے طور پر ہے۔چنانچہ اس مضمون کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ وَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِى مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ کہ شہد کی مکھی پر خدا نے وحی نازل فرمائی اور وحی کے نتیجے میں اس میں عظیم الشان تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔اس لکھی کے مقابل پر ایک عام لکھی بھی ہے جو وحی سے محروم ہے۔ان کی ظاہری شکلیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں ایک ہی طرح اڑتی ہیں دیکھنے میں ایک دوسرے سے کافی مشابہ ہیں مگر ایک وہ ہے جو گندگی پر منہ مارتی ہے اور ایک وہ ہے جو پھولوں کے رس چوستی ہے اور پھولوں میں ایک ایسی بات ہے جو پھلوں سے بھی اعلیٰ درجہ کی ہے۔پھول پھلوں کے ماں ہوتے ہیں اور پھولوں میں پھلوں کی روح موجود ہوتی ہے۔نہایت ہی اعلیٰ درجے کی روحانی لطیف غذا ہے جس سے اوپر غذا کا کوئی تصور ممکن نہیں۔تو اول تو شہد کی مکھی کے ساتھ ہی دوسری مکھی کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے اور فرق ظاہر ہو جاتا ہے کہ ان دونوں چیزوں میں فرق کیوں پڑا۔فرمایا فرق صرف وحی کا ہے تعلق باللہ کا ہے اور اس لئے عام انسانوں کی مثال تو یہ ہے کہ ان کو اچھا رزق ملے تو اس کو گندگی میں بھی تبدیل کر دیتے ہیں اور اتفاقا بعض مواقع پر یا بعض صورتوں میں اچھے رزق کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں لیکن یہ اتفاقی باتیں ہیں۔با مقصد طور پر ایک رزق کو اعلی حالت میں تبدیل کر کے بنی نوع انسان کے فائدے کے لئے اس کو نکالنا یہ عام انسانوں کا کام نہیں ہے لیکن وہ لوگ جو صاحب وحی ہوتے ہیں ، وہ جو خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر لیتے ہیں، وہی بنی نوع انسان جو وحی کے تعلق سے ایک اعلیٰ درجے کا مقام حاصل کر لیتے ہیں ان کی کیفیت بدل جاتی ہے۔پس آپ یوں کہیں گے کہ اگر ایک مکھی کو بھی وحی کیا سے کیا بنادیتی ہے اور کیسا عظیم الشان روحانی انقلاب اس میں برپا کر دیتی ہے۔