خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 104 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 104

خطبات طاہر جلد ۹ 104 خطبہ جمعہ ۶ار فروری ۱۹۹۰ء ہر نسل اپنے مطلوب کے قریب تر ہوتی چلی جائے ، دور نہ ہے۔اس اعلیٰ اور عظیم الشان مقصد کے حصول کے لئے جس کا دائرہ ایک نسل پر نہیں پھیلا ہوا بلکہ مسلسل بیسیوں نسلوں تک پھیلا ہوا ہے، اتنی ہی زیادہ محنت ، اتنی ہی زیادہ توجہ اتنی ہی زیادہ حکمت اور منصوبے کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے پس ہمیں موجودہ نسلوں کو ہر قسم کی طغیانی سے پاک کرنا چاہئے خدا تعالیٰ کی رضا کے سامنے سر جھکانے پر آمادہ کرنا چاہئے اس مضمون کو بچوں کو بڑوں کو سمجھانا چاہئے ، ان کو یہ بتانا چاہئے کہ قومیں ہمیشہ اسی طرح ہی ہلاک ہوا کرتی ہیں اور تمہارے سامنے ہلاک ہونے والی بعض قوموں کی تقدیریں بن رہی ہیں ان کے نقوش ابھرتے چلے جارہے ہیں تم کیوں ان سے نصیحت نہیں پکڑتے ؟ جہاں تک پاکستان کے حالات کا تعلق ہے اس آیت پر غور کرتے ہوئے اس بدنصیب ملک کا خیال آنا ایک طبعی امر بن چکا ہے کیونکہ پاکستان جا کر وہاں سے ہر آنے والا یہ انتہائی دکھ بھری اور تکلیف دہ کہانی سناتا ہے کہ ہر دفعہ وہاں جانے پر ہمیں طغیانی بڑھی ہوئی دکھائی دی ہے، ہر شعبہ زندگی سے امن کلیتہ اٹھ چکا ہے، شرافت دن بدن ملتی اور غائب ہوتی چلی جاتی دکھائی دیتی ہے اور بے حیائی ظلم، زیادتی ، ہرقسم کی بغاوت جو دینی قدروں سے ہو یا عام انسانی قدروں سے ہو وہ زیادہ زور مارتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، زیادہ سرکش ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔اس کی تفصیل بڑی دردناک ہے اور بھیانک ہے۔قوم سے رحم مٹتا چلا جارہا ہے اور ظلم بڑھتا چلا جارہا ہے۔کراچی میں جو واقعات پیچھے ہوئے ان میں پانچ نوجوانوں کو پہلے باندھ کر بہت ہی خوفناک از بیتیں دی گئیں، اس کے بعد ان کو ایک کار میں جو غالباً انہی کی تھی ، اس میں بندھا ہوا بٹھا کر کار کو آگ لگا دی گئی اور ڈاکٹروں کی رپورٹ یہ ہے کہ وہ اس حالت میں زندہ تھے اور اس آگ سے جل کر مرے ہیں۔اس ظلم سے یہاں تک قوم کو جھٹکا لگا ہے کہ مختلف راہنماؤں نے بیان دئے ہیں کہ یہ تو کوئی مسلمانی نہیں ہے۔تعجب کی بات یہ ہے کہ یہاں پہنچ کر ان کو پتہ چلا ہے کہ یہ مسلمانی نہیں ہے۔وہ ساری منازل جو بالآخر قوم کو یہاں تک پہنچا گئی ہیں۔وہ ہر منزل غیر مسلمان ہونے کی دلیل تھی ، وہ ہر منزل بتا رہی تھی کہ تمہارا قدم اسلام سے غیر اسلامی طاقتوں کی طرف ہے۔ایمان سے طاغوتی طاقتوں کی طرف اٹھ رہا ہے اور دن بدن تم طاغوت کے غلام ہوتے چلے جارہے ہو۔رشوت ستانی کا تو یہ عالم ہے ایک صاحب نے مجھے بتایا کہ جب میں کراچی پہنچا تو مجھے