خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 103 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 103

خطبات طاہر جلد ۹ 103 خطبه جمعه ۱۶ار فروری ۱۹۹۰ء آسکتا ہے۔اسی طرح کائنات کی تمام قوتیں ایسی قوموں سے باغی ہو جایا کرتی ہیں جو خدا سے باغی ہو جائیں۔پس طاغوت کے لفظ میں بہت ہی گہری حکمتیں ہیں اس کو سمجھنا چاہئے۔جس قسم کی سرکشی کوئی انسان کرتا ہے اسی قسم کی سزا وہی سرکشی اس کے لئے مہیا کر دیتی ہے۔، آج کی دنیا میں اس کی مثال Aids کی بیماری ہے۔جس میدان میں آج مغرب کی دنیا نے خدا کے خلاف کھلی کھلی بغاوت کی ہے۔جنسیات کے مضمون میں انہوں نے ہر حد کو تو ڑ دیا ہے اور ایسی کھلی بغاوت ہے کہ ان کے ریڈیو، ان کے ٹیلی ویژن ، ان کے اخبارات بے حیائی میں حد سے زیادہ بڑھ چکے ہیں اور اسی میدان میں ان کی سزا کے سامان اس طرح مہیا کئے گئے کہ جنسی طاقتوں نے ان کے خلاف بغاوت کر دی ہے۔جہاں سے وہ لذت ڈھونڈ نا چاہتے ہیں وہاں سے ان کو عذاب مہیا کیا جا رہا ہے۔پس یہ مضمون کوئی معمولی مضمون نہیں ہے اس میں بہت گہرائی اور بہت ہی وسعت ہے۔ہر انسان جس قسم کی روحانی بغاوت میں مبتلا ہوگا ، جب وہ حد سے بڑھ جائے گی تب اس کی سزا مقدر ہوگی۔یہاں اس سوال کا بھی جواب آجاتا ہے کہ کیوں ہر جرم کے وقت انسان پکڑا نہیں جاتا؟ کیوں قومیں ابتدا میں ہی پکڑی نہیں جاتیں؟ اس لفظ میں یہ مضمون داخل ہے کہ جب کوئی حد سے بڑھ جائے تب اس کی سزا کا وقت ہوگا اور پھر سزا حد سے بڑھ جائے گی۔پس قوموں کو ان کے جرم کی طاقتوں ، ان کے عصیان کی طاقتوں کے مطابق مہلت دی جاتی ہے اور گناہوں کی حیثیت سے خدا تعالیٰ کی تقدیر میں کچھ حدیں مقرر ہیں۔جو قو میں وہ حدیں پھلانگ جاتی ہیں۔پھر ان کی سزا کا دور شروع ہو جاتا ہے اور وہی چیزیں جن میں انہوں نے حد سے تجاوز اختیار کیا ہوتا ہے، ان کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہیں اور ان کے خلاف پھر تجاوز اختیار کرتی ہیں۔یہ ایک عام جزاوسزا کا مضمون ہے جو ساری کائنات میں جاری و ساری دکھائی دیتا ہے۔اس پہلو سے جماعت احمدیہ کے لئے اس میں بہت غور کرنے کے مواقع اور اس سے عبرت حاصل کرنے کے مواقع ہیں۔ہم نے بہت لمبے عرصے تک بنی نوع انسان کی خدمت کرنی ہے ہمارا کام یہ نہیں کہ ایک ہی نسل میں اپنے مقصد کو حاصل کر جائیں بلکہ ہمارے مقصد کا حصول نسلاً بعد نسل جس طرح جھنڈے منتقل کئے جاتے ہیں اس طرح اگلی نسلوں میں منتقل ہوتا چلا جائے گا اور ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ