خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 102
خطبات طاہر جلد ۹ 102 خطبه جمعه ۶ ار فروری ۱۹۹۰ء وسو سے پیدا کرتا ہو اور جس کا آخری نتیجہ طَغَو “ بنتا ہو یعنی بغاوت کرنا انحراف کرنا ،حد سے بڑھنا۔قرآن کریم نے اس مضمون کو ایک اور پہلو سے بھی بیان فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے طَغَو کا جرم کیا۔یعنی جو بغاوت میں سرکشی میں ملوث ہوئے اور طاغوت کے تابع چلے ،ان کی سزا ان کی اپنی طاغوتی حرکتوں کے نتیجے میں ان کو ملتی ہے اور ان کی سزا کا نام بھی یہی رکھا گیا ہے۔چنانچہ شمود کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم فرماتا ہے فَاهْلِكُوا بِالطَّاغِيَةِ (الحاقة :۶) وہ اپنی سرکشی کے ذریعے سزا پا گئے۔یعنی ان کے لئے جو سزا مقرر ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ حد سے بڑھا ہوا عذاب، ایسا عذاب جس کا بیان ممکن نہ ہو۔یعنی اس حیرت انگیز طور پر وہ اس قدر طغیانی دکھا رہا ہو۔اس قدر جوش دکھا رہا ہو کہ اس کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہر حد پھلانگ چکا ہے۔تو قو میں طاغوت کی غلامی میں جس قسم کے جرائم کرتی ہیں ، بعینہ ویسا ہی عذاب ان کے لئے مقدر ہوتا ہے جو دراصل ان کے اعمال کی ایک دوسری شکل ہے پس جو لوگ طغیانی کے مرتکب ہوں گے وہ طغیانی کے ذریعے تباہ کئے جائیں گے۔چنانچہ قرآن کریم نے حضرت نوح کی قوم کو بھی جب ہلاک فرمایا تو اس کا نقشہ اس طرح کھینچا۔لَمَّا طَغَا الْمَاءِ (الحاقہ :۱۲) جب پانی نے سرکشی دکھائی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو تو میں خدا کے خلاف سرکشی دکھاتی ہیں، ان کا جرم یہ ہوتا ہے کہ ادنی ہو کر اپنے آقا کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہیں اور قرآن سے پتہ چلتا ہے کہ ساری کائنات کو انسان کے غلام کے طور پر پیدا فرمایا گیا ہے انسان کے لئے مسخر فرمایا گیا ہے۔تو دیکھیں کیسا خوبصورت جواب ہے ان کی سزا کا کہ پھر جو تمہارے غلام ہم نے بنائے تھے، ہم ان کو تمہاری غلامی سے آزاد کرتے ہیں۔ان کو تمہارے خلاف اٹھا دیں گے۔تمہارے خلاف بغاوت کرنے پر آمادہ کریں گے۔تم نے اپنے آقا کے خلاف بغاوت کی اور تمہارے آقا نے جو غلام تمہیں بخشے تھے، وہ تمہارے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔پانی کا بھی طغیانی کے طور پر استعمال ہونا دراصل اسی لفظ طَغَو“ سے نکلا ہے جس کا مفہوم ہے سرکشی کرنا۔تو پھر پانی بجائے اس 66۔کے کہ تمہارے لئے رحمت بن کر برستا، وہ سرکشی کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوگا اور تمہیں ہلاک کر دے گا۔اس مضمون کو غالباً سورۃ نوح میں ہی اس طرح بھی بیان فرمایا ہے کہ جب نوح نے ان سے کہا تھا کہ اگر تم خدا تعالیٰ کی اطاعت کرو گے تو پانی تمہارے لئے رحمت کا پانی بن کر برسے گا۔پس پانی اپنی ذات میں انسان کی غلامی بھی کر سکتا ہے اور انسان کے خلاف بغاوت کر کے اس پر غالب بھی