خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 95
خطبات طاہر جلد ۹ 95 خطبه جمعه ۹ رفروری ۱۹۹۰ء سب سے زیادہ مصیبت اس وقت پاکستان میں ہے جہاں راہنمائی کا فقدان ایسے دکھوں اور دردوں میں تبدیل ہو گیا ہے کہ قوم کا جوڑ جوڑ دکھ رہا ہے پور پور میں تکلیف ہے اتنا درد ناک حال ہے اس وقت پاکستان کا کہ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جو بشدت بیمار نہ ہو جس میں زہر نہ گھل گیا ہو کوئی قیادت نہیں ہے اور جو قیادت نظر آتی ہے اس کے دل میں ان کے لئے کوئی ہمدردی نہیں جنہوں نے ان کو قائد بنارکھا ہے۔قتل عام ہورہے ہیں ، ڈا کے پڑرہے ہیں، اغوا ہور ہے ہیں ہرقسم کی بدیاں جن کا آپ دنیا میں تصور کر سکتے ہیں جو خدا خوفی کے بغیر پیدا ہوا کرتی ہیں وہ اپنی پوری قوت کے ساتھ اور بھیانک شکل کے ساتھ پاکستان میں ابھر رہی ہیں اور ہر بدی ظالمانہ سفا کا نہ رنگ رکھتی ہے۔چھوٹے چھوٹے بچوں کو اغوا کر لینا اور ان کو قتل کر دینا ماؤں سے جدا کرنا طالب علموں کو اغوا کر کے لے جانا امیر لوگوں کے بچوں کا پکڑ لینا اور بڑی رقموں کے مطالبے کرنا یہ تو ایک روز مرہ کی تجارت بن گئی ہے پھر چھوٹے چھوٹے بچوں کا اغوا کر کے ان کے بازوں تو ڑ کر ان کی ٹانگیں ٹیڑھی کر کے ان کو دولت کمانے کے لئے فقیروں اور ریڑھیوں پر ڈال کر عوام الناس میں ان کی نمائش کرنا اور جو رحمت کا دودھ تھوڑا سا انسانوں میں باقی ہے اس کو اس طرح ان بچوں کی راہ میں اس طرح نچوڑتے چلے جانا دھو کے اور فریب سے مانگنے کے نئے نئے ڈھنگ اختیار کرنا کوئی ایک بات بھی ایسی ہو جو آپ سوچ سکیں کہ بدی ہے اور پاکستان میں نہ ہو کوئی ایسی بات نہیں آپ سوچ سکتے ہیں ہر بدی اپنی انتہائی مکروہ شکل میں نہایت ظالمانہ اور سفا کا نہ صورت میں پاکستان میں اس طرح پرورش پا رہی ہے جیسے ماں کے دودھ پر بچے پرورش پاتے ہیں جیسے زرخیز زمین پر ہریاول پرورش پاتی ہے۔پس پاکستان کی گلی گلی پاکستان کا گھر گھر دکھی ہوا ہے ابھی حال میں ہی کراچی میں جو فسادات ہوئے ہیں کہنے کوتو ۴۵ آدمی مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ہمارا تجربہ ہے کہ ایسے اعداد و شمار ہمیشہ کم کر کے دکھائے جاتے ہیں اور امر واقعہ یہی ہے کہ اس سے بہت زیادہ اموات بھی ہوتی ہیں اور بہت زیادہ لوگ زخمی بھی ہوتے ہیں جتنے حکومت کے ادارے اور اخبارات بیان کرتے ہیں لیکن قطع نظر اس کے سارے شہر میں ان علاقوں میں جہاں فسادات ہوئے ہیں جو بے چینی کی لہریں چلی ہیں جو عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے ماؤں کے سر کے دوپٹے اتر گئے وہ عورتیں جن کو ہر لمحہ اپنی بیوگی کا خوف تھا اور وہ بچے جن کو