خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 5
خطبات طاہر جلد ۹ 5 خطبہ جمعہ ۵/جنوری ۱۹۹۰ء ان سے بعض انسان صحیح استفادہ بھی کرتے ہیں اور رزق حسنہ کے طور پر بھی ان کو استعمال کرتے ہیں۔لیکن بہت سے انسان ایسے ہیں جو ان کے غلط استعمال کرتے ہیں اور اعلیٰ اور پاکیزہ چیز کو ایک خبیث اور گندی چیز میں تبدیل کر دیتے ہیں جو بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کی بجائے ان کے شدید نقصانات کا موجب بنتی ہے۔پس دیکھو ان جانوروں کے مقابل پر ان انسانوں کی کیا حالت ہے۔وہ ارذل المخلوقات میں شمار ہوتے ہیں ، اسفل المخلوقات میں شمار ہوتے ہیں اور انسان اشرف المخلوقات میں شمار ہوتا ہے۔وہ نہایت رذیل اور گندی اور ایسی غذا استعمال کرتے ہیں جس سے نیچے درجے کی اور کوئی غذا نہیں اور اس سے نہایت پاکیزہ خوراک پیدا کرتے ہیں اپنے لئے بھی اور اشرف المخلوقات کے لئے بھی اور نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا دودھ جسے پی کر تم لذت حاصل کرتے ہواور بہت سے اس کے فائدے اٹھاتے ہو۔وہ یہ جانور گھاس پھوس سے پیدا کر رہے ہیں اور تمہارا یہ حال ہے کہ تمہارے لئے ہم نے پھل پیدا کئے ہیں جو سب غذاؤں میں سب سے اعلیٰ درجے کی غذا ہے اور اس کو تم نہایت رذیل قسم کی غذاؤں میں تبدیل کر دیتے ہو اور جانور تو تمہارے فائدے کے لئے یہ کام کرتے ہیں۔تم دوسرے انسانوں کے فائدے کے کام نہیں کرتے بلکہ ان کے لئے نقصان کا موجب بن جاتے ہو۔فسق و فجور کا گہرا تعلق شراب سے ہے اور شراب پینے والی قوموں میں لازماً فسق و فجور پایا جاتا ہے۔یہ دو ایسی چیزیں ہیں جن کو آپ کبھی الگ نہیں کر سکتے۔شراب پینے والی پاکباز قو میں آپ کو کہیں نہیں ملیں گے۔اگر شراب کے نشے سے ہٹ کر پاکبازی اختیار بھی کرلیں اور تہذیب کے نمونے بھی دکھا ئیں تب بھی شراب کی حالت میں وہ اپنی اعلیٰ خصلتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔اعلیٰ عادات سے محروم رہ جاتے ہیں اور ان کے اندر جو سب سے ارذل ہے اور اسفل ہے وہ باہر نکلتا ہے اور اس کے نتیجے میں بعض ایسے واقعات ہمارے سامنے آتے ہیں کہ خاوند اپنی بیویوں کے سر دیواروں سے ٹکر اٹکرا کر پھوڑ دیتے ہیں، مائیں اپنے بچوں کو دیواروں کے ساتھ پھنتی ہیں اور جان سے ماردیتی ہیں۔یہ عام روز مرہ کے واقعات ہیں۔یورپ میں خصوصیت کے ساتھ اور امریکہ میں بھی ظلم اور سفا کی کے جو واقعات ملتے ہیں ان میں سے بیشتر کا تعلق شراب سے ہے۔جتنے گھر آپ کو اجڑتے ہوئے دکھائی دیں گے ان میں سے اکثر کا تعلق شراب سے ہے۔شراب کے نتیجے میں بدکاریاں اور فسق و فجور کے علاوہ گھر میں ظلم اور بداخلاقی طبعی طور پر پیدا ہوتے ہیں۔تو یہ عبرت ہے کہ دیکھو دو قسم