خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 540 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 540

خطبات طاہر جلد ۹ 540 خطبه جمعه ۴ ار تمبر ۱۹۹۰ء ، پیدا کیا ہے۔تقویم سے مراد ہے سیدھا اور درست کرنا۔فرمایا دیکھو ہم نے درستی کرنے کے کتنے لمبے دور سے اور تربیت کے دور سے انسان کو گزار کے اس کو کیسی اعلیٰ حالت تک پہنچادیا ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سَفِلِينَ ) پھر ہم نے اس کو دنیا کی ادنیٰ حالتوں کی طرف لوٹنے دیا۔کیوں؟ اس لئے نہیں کہ خدا نے زبر دستی لوٹا دیا۔اس لئے کہ وہ نہ ایمان لایا نہ اس نے اعمال صالحہ کو اختیار کیا۔إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصلحت وہ لوگ جو ایمان لے آئے اور نیک اعمال کو اختیار کیا وہ مستثنی ہیں وہ کبھی بھی ادنیٰ حالتوں کی طرف واپس نہیں لوٹائے جائیں گے۔فَلَهُمْ أَجْرُ غَيْرُ مَمْنُونٍ ان کے لئے ایسی جزاء ہے جو نہ ختم ہونے والی ،ان کی ترقیات بے حساب ہیں اور لامتناہی ہیں۔پس یہ وہ فلسفہ ہے جو قرآن نے ہمیں زندگی کا فلسفہ سکھایا ہے۔جتنا لمبا عرصہ ہماری تربیت پر ہمارے ماضی میں گزرا ہے اگر آج ہم اس راہ کو اختیار کر لیں جس پر آئندہ روح کی Evolution کا مدار ہے جس کے ذریعے پھر روح نے آگے ترقی کرنی ہے تو پھر کوئی واپسی نہیں ہے۔فرمایا : پھر ہم وعدہ کرتے ہیں کہ جس طرح ارب ہا ارب سال کے دور سے گزار کے تمہیں تربیت دیکر انسان کے مقام تک پہنچایا تھا یہ انسان کا مقام تمہارا پہلا قدم بن جائے گا اور آئندہ اس سے بھی بہت زیادہ ترقیات تمہارے لئے رکھی گئی ہیں۔ترقی کے ایسے غیر متناہی مقامات ہیں کہ تم ان کا تصور ہی نہیں کر سکتے۔غَيْرُ مَمْنُونٍ وہ کبھی کالے نہیں جائیں گے کبھی کسی مقام پر ختم نہیں ہو نگے۔پس یہ وہ دعوت ہے جو اسلام نے آپ کو دی ہے جو قرآن کریم نے بڑے حکیمانہ فلسفے کے ساتھ کھول کر آپ کے سامنے رکھی ہے۔اس کی حکمتیں بیان فرمائی ہیں۔آپ کے لیے ماضی کی مثالیں دیگر آپ کو سمجھایا ہے کہ یہ دنیا باطل نہیں ہے۔انسان کی پیدائش یونہی اتفاقا نہیں ہوئی بلکہ ایک بہت ہی بلند اور نہ ختم ہونے والے مقصد کی پیروی کے لئے انسان کو بنایا گیا ہے۔پس جیسا اس کا ماضی ہے جس میں رفتہ رفتہ ترقی دکھائی دیتی ہے۔ویسا ہی اس کا مستقبل بھی ہوسکتا ہے مگر شرط یہی ہے کہ ایمان لے آئے اور اعمال صالحہ اختیار کرے۔پس اس پہلو سے مومن کی زندگی لامتناہی زندگی بن جاتی ہے مگر اس دنیا میں اسے خدا کی طرف لوٹنا ہوگا۔اگر اس دنیا میں خدا کی طرف نہیں لوٹے گا تو اس کا متبادل یہ ہے کہ وہ اپنے ماضی کی طرف لوٹ جائے گا۔