خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 539
خطبات طاہر جلد ۹ 539 خطبه جمعه ۴ ار ستمبر ۱۹۹۰ء تھی وہ بھی اس مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔اچانک ایک گدھے کا وہاں سے گذر ہوا تو گدھے نے آم کے پھینکے ہوئے چھلکوں اور گٹھلیوں کو سونگھا اور بڑی نفرت سے اپنے ہونٹ چڑھا کر منہ دوسری طرف کر لیا اور بغیر کھائے آگے نکل گیا تو جن کو آم سے نفرت تھی انہوں نے بے ساختہ غالب سے متاثر ہو کر کہا کہ مرزا دیکھو گدھا بھی آم نہیں کھاتا۔غالب نے جواب دیا۔ہاں! گدھا آم نہیں کھاتا تو ایک بھی“ کے ہونے یا نہ ہونے نے دیکھیں کتنا فرق پیدا کر دیا۔وہ گدھے جو اس دنیا میں خدا کی محبت کے آم نہیں کھاتے اس دنیا میں جب ان کو آم نصیب ہوں گے تو ان کے لئے تو جہنم ہی ہوگی۔اس لئے یہ ذوق کی پرورش کی بات ہے ذوق کی اگر سلیقے سے پرورش کی جائے تو رفتہ رفتہ وہ ترقی کرتا چلا جاتا ہے اور ادنی سے اعلیٰ کی طرف حرکت کرتا ہے اسی لئے خدا تعالیٰ نے اپنی محبت کا ذوق پیدا کرنے کے لئے زندگی کو اربوں سال کے تربیت کے دور سے گزارا ہے۔وہ معمولی کیڑے جوابتدائی حالت سے تعلق رکھتے ہیں ان میں سے بہت سی قسمیں ایسی ہیں جو گندگی سے باہر سانس ہی نہیں لے سکتیں اور وہی ان کی جنت ہے۔کس طرح خدا تعالیٰ نے رفتہ رفتہ ایک دو سال میں نہیں، ایک دو ہزار سال میں بھی نہیں، ایک دولاکھ سال میں نہیں، ایک دو کروڑ سال میں بھی نہیں، اربوں سال میں زندگی کو تربیت دے کر اس کو اعلیٰ ذوق کی اس منزل تک پہنچادیا ہے جسے انسان کی منزل کہا جاتا ہے اور اس کے باوجود جب وہ تربیت پا کر اس قابل ہوگیا کہ وہ خدا تعالیٰ کی محبت میں لذت حاصل کر سکے۔جب وہ اس لائق بن گیا کہ وہ اعلیٰ اور لطیف چیزوں کا ادراک کر سکے اور ان کو سمجھ سکے اور ان کا ادنی سے فرق کرنا سیکھ لے تو اس وقت وہ واپس لوٹا اور دنیا کی طرف منہ مارنے لگ گیا اور پھر گندگی کی طرف جھک گیا۔ایسے ہی شخص کا ذکر ایک کتے کی مثال کے ساتھ خدا تعالیٰ یوں بیان فرماتا ہے کہ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَهُ بِهَا وَلَكِنَّةَ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ (الاعراف: ۱۷۷) کہ اگر ہم چاہتے ہم اس کا رفع ان صفات کے ذریعے کر دیتے جوخدا تعالیٰ نے اس کو عطا فرمائی تھیں وَلكِنَّةَ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ لیکن وہ بد بخت زمین کی طرف جھک گیا اور ان ادنیٰ حالتوں کی طرف لوٹ گیا جن سے نکال کر ایک بہت لمبے عرصے میں خدا نے تربیت کر کے اس کو بلند مقام تک پہنچایا تھا۔اسی طرح سورہ تین میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِى أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سَفِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ فَلَهُمْ أَجْرُ غَيْرُ مَمْنُونٍ ) (تین : ۵ تا ۷ ) کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو احسن تقویم