خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 476 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 476

خطبات طاہر جلد ۹ 476 خطبه جمعه ۷ اراگست ۱۹۹۰ء پیچھے کچھ محرکات ہوتے ہیں، کچھ زیر زمین سازشیں کام کر رہی ہوتی ہیں، کہیں۔C۔I۔A کے ایجنٹ ہیں، کہیں دوسرے ایسے غدار ملک کے اندر موجود ہیں جو غیر ملکی بڑی بڑی طاقتوں کی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے میں نہایت حکمت کے ساتھ دبی ہوئی خفیہ کارروائیاں کرتے ہیں اور ان کارروائیوں کا ذکر قرآن کریم کی سورۃ الناس میں موجود ہے کہ خناس وہ طاقتیں ہیں جو ایک شرارت کا بیج بو کر خود پیچھے ہٹ جاتی ہیں اور کچھ پتا نہیں لگتا کسی کو کہ کہاں سے بات شروع ہوئی، کیوں ہوئی ، کوئی بڑی حماقت سرزد ہوئی ہے تو کون ذمہ وار ہے؟ لیکن در حقیقت ان کے پیچھے بڑی بڑی قو میں ہوا کرتی ہیں۔پس اس پہلو سے یہ حالات نہایت ہی خطرناک صورت اختیار کر چکے ہیں۔اب آپ عالم اسلام کا تاریخی پس منظر میں جائزہ لے کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کبھی بھی اسلام کی قوت کو بعض مسلمان ممالک کے شامل ہوئے بغیر نقصان نہیں پہنچایا جاسکا۔ساری اسلامی تاریخ کھلی کھلی اس بات کی گواہ پڑی ہے کہ جب بھی مغربی طاقتوں نے مسلمان طاقت کو اُبھرنے سے روکا ہے یا ویسے کسی ظاہری یا مخفی جنگی کارروائی کے ذریعے ان کو پارہ پارہ کیا ہے یا نقصان پہنچایا ہے تو ہمیشہ بعض مسلمان ممالک کی تائید ان لوگوں کو حاصل رہی۔میں اس تاریخ کا مختصر ذکر آپ کے سامنے رکھتا ہوں، صرف نکات کی صورت میں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تفسیر کبیر میں المر' کے اعداد پر بحث کرتے ہوئے یہ نقاب کشائی سب سے پہلے فرمائی کہ ان آیات میں جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ان اعداد میں اسلامی تاریخ کے ساتھ ساتھ کوئی تعلق موجود ہے اور ان کے اعداد ۱ ۲۷ بنتے ہیں اور ا۲۷ وہ سال ہیں جو پہلی تین نسلوں کے گزرنے کے سال ہیں جن کے متعلق آنحضرت ﷺ نے خوشخبری دی تھی کہ یہ نسلیں یعنی میری نسل اور پھر اس کے بعد کی نسل اور پھر اس کے بعد کی نسل یہ مامون اور محفوظ نسلیں ہیں۔ان کا بھی کم و بیش وقت ۲۷۱ سال پر جا کر پورا ہوتا ہے۔یہ وہ خطرناک سال ہے جس میں عالم اسلام کے انحطاط کی بنیادیں کھودی گئیں اور آئندہ سے پھر عالم اسلام میں جو افتراق پیدا ہوا ہے اور مختلف جگہ انحطاط کے آثار پیدا ہوئے ہیں دراصل ان کا آغاز اسی سال میں ہوا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے جو دو بڑے اہم واقعات سنگِ میل کے طور پر پیش فرمائے ہیں وہ یہ ہیں کہ ۲۷۱ میں سپین کی اسلامی مملکت نے پوپ کے ساتھ یہ معاہدہ کیا کہ بغداد کی حکومت کو تباہ کرنے میں اور ان کو