خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 475
خطبات طاہر جلد ۹ 475 خطبه جمعه ۷ ار اگست ۱۹۹۰ء لئے کیا جارہا ہے۔مجھے جو خطرہ نظر آرہا ہے وہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے بہانے عراق کو چاروں طرف سے کلیۂ نہتا کرنے کے بعد اسرائیل کو اجازت دی جائے گی کہ وہ عراق پر حملہ کرے اور Jorden نے اگر یہی رستہ اختیار کیا جو اس وقت اختیار کئے ہوئے ہے یعنی اپنی مجبوری کی وجہ سے عراق کے ساتھ ہے تو اُن کے لئے یہ بہت بڑا بہانہ موجود ہے کہ اس وجہ سے کہ Jorden ان کے ساتھ شامل نہیں ہو رہا Jorden کو سزا دی جائے اور اس کی سزا یعنی بقیہ آدھی سزا یہ ہوگی کہ جس طرح اُردن کے مغربی کنارے پر یہود قابض ہو گئے ، Jorden کے باقی علاقے پر بھی جس حد تک ممکن ہے یہود قابض ہو جائیں اور جس حد تک تیزی کے ساتھ عراق وہاں پہنچ سکتا ہے اُس کے کچھ علاقے پر عراق قابض ہو جائے اور اس کے بعد پھر عراق کو شدید سزادی جائے۔اس ضمن میں یہ خطرہ ہے کہ کچھ عرصے تک یہ دباؤ بڑھایا جائے گا اور بھوک سے مجبور کر کے ان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائے گا اور اس دوران اگر کسی وقت مناسب سمجھا گیا تو ایک اشارے پر اسرائیل کو اجازت دی جاسکتی ہے اور یہ سب کہہ سکتے ہیں کہ ہم تو مسلمان فوجوں کے ساتھ مل کر یہاں حفاظت کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں۔ہمارا تو اس میں دخل ہی کوئی نہیں اور ہمارے ان فوجی اقدامات کے ساتھ تمام عالم اسلام کا اتفاق شامل ہے اور ہماری طرف سے تو کوئی زیادتی نہیں ہوئی ، یہ عراق اور اسرائیل کے درمیان کے معاملات ہیں۔یہ آپس میں طے کرتے رہیں ہم تو بیچ میں دخل نہیں دیں گے اور مسلمان ممالک کی فوجیں چونکہ یہاں مقفل ہو چکی ہوں گی اس لئے دوسرے مسلمان ممالک اگر چاہیں بھی تو الگ ہو کر اسرائیل کے مقابلے کے لئے عراق کی کوئی مرد نہیں کر سکیں گے۔اگر یہ نہ ہو تو اس کے علاوہ بھی یہ خطرہ بڑا حقیقی ہے کہ عراق سے ایسا خوفناک انتقام لیا جائے گا کہ اسے پُرزہ پرزہ کر دیا جائے گا اور جب تک ان کے انتقام کی آگ ٹھنڈی نہیں ہو گی، جب تک یہ اُبھرتا ہوا مسلمان ملک جو اس علاقے میں ایک غیر معمولی طاقت بن رہا ہے اسے ہمیشہ کے لئے نیست و نابود نہ کر دیا جائے۔یہ ارادے پہلے اسرائیل میں پیدا ہوئے ہیں اور میں اسرائیل کے جو بیانات پڑھتا رہتا ہوں اُن سے مجھے یقین ہے کہ بہت دیر سے اسرائیل جو یہ پروپیگنڈا کر رہا تھا کہ اسرائیل کو عراق سے خطرہ ہے یہ ساری باتیں اُسی کا شاخسانہ ہیں۔کسی طرح عراق کو آمادہ کیا گیا کہ وہ کو یت پر قبضہ کرے اور پھر یہ سارا سلسلہ جاری ہو۔یہ اللہ بہتر جانتا ہے لیکن ایسے وقت اتفاقی نہیں ہوا کرتے اور ان کے