خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 386
خطبات طاہر جلد ۹ 386 خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۹۰ء آباؤ اجداد کا ذکر کرتے ہیں۔ان کو عملاً اس مضمون میں کوئی دخل نہیں ہے۔وہ دائرے کے باہر سے بیٹھے ہوئے ظاہر یہی کرتے ہیں کہ ہم اس دائرے میں ہیں کیونکہ اس دعا میں جب یہ فرمایا گیا کہ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا تو جن کے حق میں یہ دعا مقبول ہوئی ان کی غیر متقی اولا دان کو اپنا امام کہنے کا حقدار نہیں رہتی۔اس پہلو سے جماعت احمدیہ کے لئے اس میں بہت گہرا سبق ہے اور وہ یہ ہے کہ آج کے صلى الله دور میں غیر احمدی ملاؤں سے ہمارا سب سے بڑا جھگڑا یہ چل رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ ہمارے امام زیادہ ہیں یا تمہارے امام زیادہ ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ کلیہ ہمارے امام ہیں اور تم سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اگر تم نے کوئی تعلق ظاہر کیا تو ہمیں اتنا اشتعال آئے گا کہ ہم اس کے بعد حق بجانب ہوں گے کہ اگر تمہارے گھر لوٹیں، تمہاری مسجد میں مسمار کریں اور تمہیں قتل کریں یا تمہارے بچوں کو اذیتیں دیں کیونکہ تم نے ہمارے امام کو اپنا بنالیا اور احمدی یہ کہتے ہیں کہ اصل تو ہمارے ہی امام ہیں۔اب اس جھگڑے کو کیسے نپٹایا جائے یہ سوال پیدا ہوتا ہے۔یہ ایسا جھگڑا تو نہیں جیسے بچے آپس میں لڑتے ہوں کہ ہمارا باپ زیادہ ہے۔تمہارا باپ زیادہ ہے اور ماں باپ اگر موجود ہی نہ رہے ہوں تو کوئی کس سے پوچھے کہ کس کا کوئی زیادہ تھا۔اب قرآن کریم نے ہمیں یہ نکتہ سمجھا دیا اور پہچان کی ایک کسوٹی ہمیں عطا کر دی تا کہ آئندہ جب کبھی بھی امت میں یہ جھگڑے پیدا ہوں کہ محمد مصطفی نے کس کے زیادہ ہیں تو یہ آیت کسی کے حق میں گواہ بن کر کھڑی ہو جائے اور یہ بتائے کہ اس کے زیادہ ہیں اس کے نہیں ہیں یا اس کے بالکل نہیں ہیں۔پس وہ لوگ جو تقویٰ میں ترقی نہیں کرتے ان کو یا درکھنا چاہئے کہ یہ دعا کسی اور کے حق میں مقبول ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو ہمارے آقا و مولیٰ حضرت رسول اکرم ﷺ کے حق میں لازماً اپنی تمام شان کے ساتھ مقبول ہوچکی ہے۔پس اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرما دی ہے۔فرمایا ہے کہ آئندہ کے لئے تم میری نظر میں ہمیشہ متقیوں کے امام ہی رہو گے اور غیر متقیوں سے تمہارا کوئی تعلق نہیں۔پس آنحضرت ﷺ نے اسی دعا کی مقبولیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے جب یہ فرمایا کہ آئندہ امت میں یہ یہ خرابیاں پیدا ہوں گی تو وہ بدخلق اور ظاہر بین علماء جن کے متعلق فرمایا کہ وہ آسمان کے