خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 371
خطبات طاہر جلد ۹ 371 خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۹۰ء نہیں۔زمین کی سطح پر گھسٹ گھسٹ کر زندگیاں گزاریں، کم سے کم انگلی دنیا میں ہمیں دوسری منزل دے دینا۔ہرگز ہرگز کسی قیمت پر یہ مضمون قرآن کریم کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا اور قرآن کریم کی شان کو گھٹانے والا مضمون ہے۔اس لئے بالا خانہ ہمیشہ روحانی معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور لفظ بالا خانہ استعمال کرنا پڑے گا کیونکہ عربی میں بھی یہ بالا خانے کے طور پر ہی استعمال ہوا ہے لیکن اس کے معنی ہمیشہ یہی سمجھیں کہ عزت اور شرف کے بلند مقامات اور دنیا میں بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور یقیناً ہوتا ہے۔یہ خیال کر لینا کہ یہ جنت کے وعدے ہیں یہ درست نہیں ہے۔جنت کے وعدے بھی ہیں لیکن حقیقت میں اس جنت کا آغاز اس دنیا سے ہوگا اور یہی قرآن کریم کی مراد ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ مترجمین نے اور مفسرین نے اگلی آیت کے ایک لفظ سے دھوکا کھایا ، جس میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے خُلِدِينَ فِيهَا کہ یہ لوگ اس حالت میں ہمیشہ رہیں گے اور سمجھے کہ یہ پیشگی کی زندگی تو جنت میں مل سکتی ہے۔اس لئے یہ وعدہ جو کیا جا رہا ہے انعام کا ، اس کا تعلق اس دنیا سے نہیں بلکہ آئندہ دنیا سے ہو گا۔حالانکہ اس مضمون کو قرآن کریم کی اسی آیت نے اگلے حصے میں کھول دیا تھا اور فرمایا سْتَقَدَّاقَ مُقَامًا یہ وہ جگہ ہے جو عارضی قیامگاہ کے طور پر بھی اچھی ہے اور مستقل قیامگاہ کے طور پر بھی اچھی ہے۔جنت تو عارضی قیامگاہ ہے ہی نہیں۔اس لئے خُلِدِین کا ایسا ترجمہ کرنا جو اسی آیت کے اگلے حصے کے مخالف ہو یہ درست نہیں ہے۔ہاں ایک پہلو سے اگر دیکھا جائے تو اس آیت کو دونوں دنیاؤں پر چسپاں کیا جائے تو مضمون خوب کھل جاتا ہے اور بہت ہی حسین مضمون ابھرتا ہے۔خُلِدِین کا پہلا معنی یہ ہوگا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی گھروں کی جنتوں کی حفاظت کی جائے گی اور ان کی ساری زندگی امن اور سکون سے کٹے گی اور کبھی یہ نہیں ہوگا کہ کچھ عر صے کے بعد بیویوں کے دل خاوندوں سے بھر جائیں اور خاوندوں کے بیویوں سے بھر جائیں گے اور ان کی جنت جو ہے جہنم میں تبدیل ہو جائے گی وہ ایسے نیک لوگ ہیں جن کے گھر ہمیشہ ان کے لئے بالا خانے بنے رہیں گے یعنی عزت اور شرف کا مقام بنے رہیں گے اور ان سے اس دنیا میں اس مقام کو کوئی نہیں چھین سکے گا اس پر یہ دوام پائیں گے۔دوسرا خُلدِین کا معنی پہلی آیت کے دوسرے حصے سے تعلق رکھتا ہے۔وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا فرمایا ان کی اولادوں کے لئے بھی یہ دعائیں سنی جائیں گی اور نسلاً بعد نسل یہ جنت تو ان میں چلتی چلی جائے گی۔پس خالد سے مراد ہمیشہ