خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 263 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 263

خطبات طاہر جلد ۹ 263 خطبہ جمعہ ا ارمئی ۱۹۹۰ء کے کہ یہ دین پہنچانے کے لئے لوٹیں ، دین حاصل کرنے کے لئے سفر اختیار کریں۔ظاہر بات ہے یہ مسلمان ہیں ورنہ انہوں نے کہیں دین حاصل کرنے کے لئے کیوں پہنچنا ہے اور پھر ذکر ہی۔وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً مومنوں سے شروع کیا گیا ہے۔پس اس پہلو سے اس نظام کو وقف عارضی کا نظام بنانا ضروری ہے۔ورنہ وقف عارضی سے پوری طرح استفادہ نہیں کیا جاسکے گا اور جو پاکستان کے علاوہ ممالک ہیں۔انگلستان ہے یا جرمنی ہے یا ناروے ہے۔اس طرح افریقن ممالک ہیں ، ہندوستان میں آج کل خدا کے فضل سے کثرت سے تبلیغ ہو رہی ہے اور جوق در جوق بعض جگہ لوگ اسلام یعنی حقیقی اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔ان سب جگہوں میں وقف عارضی کے نظام کو دوبارہ زندہ کرنا بے حد ضروری ہے اور جن ذیلی تنظیموں کے سپر د بھی میں نے یہ کام کیا ہے کہ وہ قرآن کریم کی تعلیم دیں وہ وقف عارضی کے نظام کے علاوہ اپنے دائرے میں مختصر ایسی کلاسز کا انتظام کر سکتے ہیں۔ایسے تربیتی انتظامات جاری کر سکتے ہیں۔جن کے نتیجے میں جن لوگوں کو انہوں نے قرآن کریم سکھانا ہے ان میں سے کچھ لوگ پہلے چن لئے جائیں اور ایک جگہ نہیں کہ ضرورلندن ہی بلایا جائے یا ضرور کسی بڑی مرکزی جماعت میں ہی بلایا جائے۔جہاں جہاں ممکن ہے وہاں مختصر پیمانے پر تفقہ فی الدین سکھانےکا انتظام کرادینا چاہئے۔اس کے لئے آج کل جو ماڈرن Devices ہیں، میں نے پہلے بھی توجہ دلائی تھی کیسٹس ہیں، ویڈیوز ہیں، چھوٹا چھوٹا تر بیتی لٹریچر ہے اس کو بھی شائع کریں لیکن یہ یاد رکھیں کہ جو ذاتی تربیت فائدہ پہنچا سکتی ہے۔وہ محض لٹریچر یا ویڈیوز وغیرہ کے ذریعہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔یہ متبادل چیزیں ہیں۔تیم کا رنگ رکھتی ہیں۔قرآن کریم نے جو زور دیا ہے وہ اس بات پر ہے کہ ذاتی تربیت کی جائے اور ذاتی تربیت اسی طرح ممکن ہے کہ کچھ لوگ آئیں۔آپ ان کو سکھائیں۔ان کو سکھانے کے لئے ان آلات سے مدد بے شک لیں مگر مربی ہونا ضروری ہے کوئی تربیت دینے والا آپ کے لئے ضروری ہے کہ ان کو مہیا کیا جائے اور پھر اس کے تابع آپ ان کو سمجھا کر خواہ تھوڑا سمجھائیں لیکن کچھ سمجھا کر واپس بھیجیں اور ان کو کہیں کہ یہ تم آگے جاری کر دو۔پس قرآن کریم نے جو نظام جاری کیا ہے وہ اس وقف عارضی کے موجودہ نظام سے بھی کچھ مختلف ہے اور بعض اہم پہلوؤں سے مختلف ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اور قرآن کریم کی جو کلاسز کا ہمارے ہاں رواج ہے اس سے بھی مختلف ہے۔