خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 248 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 248

خطبات طاہر جلد ۹ 248 خطبه جمعه ۴ رمئی ۱۹۹۰ء استعمال کرنا چاہئے جو راہیں لامتناہی اجر کی طرف لے کر جاتی ہیں اور ان محنتوں پر نگر ان رہنا چاہئے کہ جن مقاصد کی خاطر ہم کام کر رہے ہیں۔ہمارا وقت ، اور ہماری توانائی انہیں مقاصد پر خرچ ہو رہے ہیں اور ادھر ادھر بکھر نہیں جاتے اور ہمارے نفسانی خیالات اور دل کی بے ایمانیاں ان نیک کوششوں کو ضائع نہیں کر دیتیں۔یہ وہ فرق ہے جو عبادت اور عبادت میں پیدا ہوتا ہے اور اسی کے نتیجے میں پھر Output کا فیصلہ ہوتا ہے کہ کسی کو کیا ملے گا۔پس جماعت احمد یہ ایک عارفانہ جماعت ہے یہ کوئی مولویوں کی جماعت نہیں ہے۔جس نے ظاہری طور پر وضو کی بعض شرطیں ادا کر دیں اور نماز کے لئے کھڑا ہو کر ایک قسم کی مصنوعی سی نماز پڑھ لی جو زبان سے ادا کی جاتی ہے۔بلکہ جماعت احمد یہ چونکہ عرفان پر مبنی جماعت ہے اس لئے جماعت احمدیہ کی نمازوں میں دل کا شامل ہونا بلکہ مسلسل دل کا عبادت میں شامل رہنا ضروری ہے۔جہاں آپ دل اُچٹتا دیکھیں گے وہیں سمجھ لیں کہ عبادت میں کچھ خیانت ہوگئی ہے اور وہاں پھر استغفار کا مضمون شروع ہو جاتا ہے۔اور اس کا فیصلہ کیسے ہو کہ ہم عبادت میں امانت کا حق ادا کر نے والے ہیں یا اس پہلو سے کو تا ہیاں ہو رہی ہیں۔اس کا ایک آسان گر خدا تعالیٰ نے انہیں آیات کریمہ میں آخر پر فَارْغَبْ کے لفظ سے بتا دیا کہ وہ عبادت جس میں تم لذت محسوس کرنے لگو گے یقین کرو کہ وہ عبادت درست تھی اور اس عبادت میں تم نے اپنی محنت کو ضائع نہیں کیا اور صحیح رستے پر خرچ کیا۔جو عبادت جس حد تک لذت سے محروم رہتی ہے اس میں رغبت کا پہلو پیدا نہیں ہوتا ، اسی حد تک تم نے امانت کا حق ادا نہیں کیا۔پس آنحضرت ﷺ کو چونکہ امین مقررفرمایا گیا تھا اور تمام امانت داروں سے بڑھ کر آپ امین تھے اس لئے آپ کی عبادت کا لازمی نتیجہ یہ نکالا ہے فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ وَإِلى رَبِّكَ فَارُ غَبْ خدا کی طرف آپ کے مائل ہونے کا نام ہی رغبت ہے اور کوئی مضمون بیچ میں پیدا ہی نہیں ہوتا۔جب بھی آپ کھڑے ہوں گے رغبت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔جب بھی عبادت کریں گے رغبت کے ساتھ کریں گے۔پس رغبت کے ساتھ عبادت اس لئے ضروری ہے کہ فَانْصَب کا نتیجہ یہ ہے ورنہ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا کا مضمون نہیں بنتا۔عُسر کے بعد یسر نصیب ہونا چاہئے اگر عبادت کی سختیاں انسان جھیلتا ہے اور لذت