خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 835 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 835

خطبات طاہر جلد ۸ 835 خطبه جمعه ۲۹ دسمبر ۱۹۸۹ء 1989 ء کا سال تاریخ انسانی میں ایک ایسا بلند اور ممتاز سال بن کر اُبھرا ہے کہ اسے قیامت تک مؤرخ بھلا نہیں سکے گا (خطبه جمعه فرموده ۲۹ دسمبر ۱۹۸۹ء بمقام مسجد فضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔یہ جمعہ جس کی ادائیگی کے لئے آج ہم اکٹھے ہوئے ہیں ، سال ۱۹۸۹ء کا آخری جمعہ ہے اور دوروز تک یہ سال اختتام پذیر ہونے والا ہے۔یہ سال نہ صرف یہ کہ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ایک غیر معمولی سال ہے بلکہ دنیا کی تاریخ میں بھی یہ سال ایک غیر معمولی سال بن کر ابھرا ہے اور اس میں خدا تعالی کی گہری حکمتیں پوشیدہ ہیں۔آپ کو یاد ہو گا جب ہم ربوہ میں ۲۳ / مارچ کا دن خوشی کے دن کے طور پر منانا چاہتے تھے تو جماعت کے دشمنوں نے پورا زور لگایا کہ وہ ربوہ میں یا دوسری جگہوں پر بھی جماعت احمدیہ کو اس دن کی خوشی نہ منانے دیں لیکن خدا کی تقدیر نے ان کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ سارے ملک میں وہ دن خوشیوں کے دن کے طور پر منائیں اور ۲۳ تاریخ یوم پاکستان کی ایسی تاریخ ہے جسے پاکستان کبھی نظر انداز نہیں کرسکتا۔تو بہت لمبا عرصہ پہلے جب ۲۳ / مارچ کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لدھیانہ میں بیعت لی ، اس بات کو پاکستان بنانے والوں نے یا پاکستان کی راہ میں خدمتیں کرنے والوں نے تو کبھی سوچا بھی نہ ہوگا اور ۲۳ / مارچ کا دن یوم پاکستان مقرر ہونا ایک ایسا فعل ہے جس میں پاکستان کی تحریک سے تعلق رکھنے والوں کا کوئی بھی عمل دخل نہیں۔تقدیر نے یہ دن ان پر مسلط کر