خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 836 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 836

خطبات طاہر جلد ۸ 836 خطبه جمعه ۲۹ دسمبر ۱۹۸۹ء دیا ، ان پر ٹھونس دیا۔جب تک وہ اس دن کو جماعت احمدیہ کی خوشیوں کے دن کے طور پر نہیں مناتے ، یہ دن ان پر مسلط ہو چکا ہے اور جب وہ اس کو پہچان جائیں گے تو پھر وہ اصلی خوشیوں کا دن ابھرے گا ، جب ۲۳ / مارچ کو پاکستان کے قیام کا دن بھی ہو گا اور احمدیت کے قیام کا دن بھی ہوگا۔اور یہ دونوں خوشیاں مل کر عید میں بن جایا کریں گی۔اسی طرح کی ایک حکمت اس سال میں بھی پوشیدہ ہے۔اس سال میں ایسے حیرت انگیز تغیرات بر پا ہوئے ہیں کہ دنیا کے دانشوروں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔یورپ میں جو کچھ ہوا ہے اور جو کچھ ہورہا ہے اور اسی طرح دنیا کے دیگر بعض ممالک میں تبدیلیوں کے جو آثار ظاہر ہورہے ہیں۔یہ وہ سب تبدیلیاں ایسی ہیں جن میں سیاستدانوں کا کوئی عمل دخل نہیں۔ان کے لئے یورپ میں ہو نیوالی عظیم تبدیلیاں اور اشتراکی ممالک میں ہونے والے انقلابات اسی طرح تعجب انگیز تھے جس طرح باقی دنیا کے لئے تعجب انگیز تھے۔ان کی کوششوں کا جہاں تک دخل ہے وہ کوششیں تو چین میں کی گئی تھیں اور انسانی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں اور ساری دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے سیاست دانوں نے مل کر چین میں جو انقلاب بر پا کرنے کی کوشش کی تھی اس میں وہ کلیہ ناکام رہے۔وہاں انقلابات ہوئے جہاں محض خدا کی تقدیر کو دخل تھا۔جہاں انسانی کوششوں کا کوئی بھی ہاتھ نہیں تھا۔اس لئے ابھی سے دانشور یہ لکھنے لگے ہیں اور مختلف مواقع پر یہ بیان دینے لگے ہیں کہ یہ سال جو ۱۹۸۹ء کا سال ہے، یہ انسانی تاریخ میں ایک ایسا بلند اور ممتاز سال بن کر ابھرا ہے کہ اسے قیامت تک مؤرخ بھلا نہیں سکے گا۔ایک غیر معمولی شان ہے اس سال میں اور آئندہ کیلئے بنیاد یں ڈالنے والا سال ہے۔پس اس کی بلندی محض اپنی ذات کی بلندی نہیں بلکہ آئندہ دنیا کی سر بلندی کے لئے اس سال میں بنیادیں قائم کی گئی ہیں۔اور یہ وہی سال ہے جس کو خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کا عالمی جشن تشکر قرار دیا۔اب اس میں ہماری اور آپ کی ، انسانوں کی کوششوں کا ظاہر ہے کہ کوئی ادنی سا بھی دخل نہیں۔اللہ تقدیر بنا رہا ہے اور تمام دنیا کو مجبور کر دیا گیا ہے کہ وہ جماعت احمدیہ کے صد سالہ جشن تشکر کے سال کو کبھی نہ بھلا سکے اور ہمیشہ اس سال کو سنہری حروف سے لکھتی چلی جائے۔پس خدا کی بہت سی تقدیر میں مخفی طور پر ایسے کام کر رہی ہوتی ہیں کہ سطح پر ان کے کوئی اثرات ظاہر نہیں ہوتے