خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 832 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 832

خطبات طاہر جلد ۸ 832 خطبه جمعه ۲۲ دسمبر ۱۹۸۹ء کر خدا کے بندوں پر شدید ظلم توڑنے کی تیاری کر رہی ہے۔اس ضمن میں جو خبریں اب تک میرے علم میں آئی ہیں وہ بہت ہی خطرناک ہیں اور ایسی نہیں ہیں جن کو ایک احمدی نظر انداز کر دے۔مجھے ہندوستان کی بالغ نظر سیاست پر یہ توقع ہے یا ہندوستان کے بالغ نظر سیاستدانوں پر کہ وہ اس تحریک کو آگے نہیں بڑھنے نہیں دیں گے۔مجھے توقع ہے کہ وہ پاکستان کی گزشتہ تاریخ سے سبق حاصل کریں گے اور پوری طرح اس بات کا زور لگائیں گے (اور ) اس بات پر متفق ہو جائیں گے کہ ہندو شریعت کے نام پر مسلمانوں پر ظلم توڑنے کی جو تحریک یا سازش جنم لے رہی ہے اس کو آگے نہ بڑھنے دیں۔اب تک ہندوستان کے سیاستدانوں نے جو رد عمل دکھایا ہے وہ نہایت معقول اور مبنی بر انصاف ہے اور باوجود اس کے کہ موجودہ حکومت اقلیت میں ہے اور باوجود اس کے کہ اس حکومت کو شدید ضرورت تھی کہ ان ہندو انتہاء پسندوں کو اپنے ساتھ شامل کرے اور اس کے لئے خطرہ تھا کہ اصولوں پر ان سے سودا کر لے لیکن یہ خوش کن بات بھی ہمارے سامنے آنی چاہئے اور دنیا کے سامنے ہمیں یہ بات بھی رکھنی چاہئے۔انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں خطرات سے اور غلط باتوں سے آگاہ کیا جائے وہاں اچھی باتوں کی تعریف کی جائے اور ان کو بھی ساتھ ہی شہرت دی جائے۔موجودہ سیاستدان جو ہندوستان کی سیاست پر نئے انتخاب میں اُبھرے ہیں ان میں سے اکثریت نے اس سازش کا حصہ بننے سے انکار کر دیا اور باوجود اس کے کہ شدید دباؤ تھا موجودہ حکومت پر، انہوں نے کھلم کھلا ان انتہا پسند ہندوؤں کو کہہ دیا ہے کہ ہم اصولوں میں تم سے کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اس کے نتیجے میں ہوسکتا ہے کہ ایک نیا الیکشن ہو۔تو جب میں کہتا ہوں کہ ہندوستان کے ان حالات سے دنیا کو باخبر کریں تو ہر گز یہ مراد نہیں کہ جہالت کے ساتھ کریں اور آپ بھی ایک انتقامی کارروائی کا حصہ بن جائیں۔میرا مطلب ہے ان حالات کو دنیا کے سامنے صداقت کے ساتھ رکھیں ، کھول کر صاف صاف بیان کریں۔ان کو بتائیں کہ خدا کے فضل کے ساتھ سر دست ہندوستان کی سیاست میں یہ بالغ نظری موجود ہے، یہ شرافت موجود ہے کہ انہوں نے باوجود شدید دباؤ کے ان انتہاء پسندوں کے ساتھ اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا لیکن اگر پاکستان میں ایسی تحریکات بڑھیں تو نفسیاتی لحاظ سے ہندوستان میں ایسی فضا قائم ہونا ضروری ہے جس کے نتیجے میں آج نہیں تو کل کل نہیں تو پرسوں یہ انتہاء پسند غالب آنا شروع ہو جائیں گے اور اگر یہ اتنا غالب