خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 830
خطبات طاہر جلد ۸ 830 خطبه جمعه ۲۲ دسمبر ۱۹۸۹ء ہندوستان کی سیاست میں کوئی حیثیت نہیں رہی اس رد عمل کے طور پر اس طرح اُبھرا ہے کہ انہوں نے بڑی شدت کے ساتھ منافرت کے ہتھیار اُٹھا کر ہندو شریعت کے نفاذ کی مہم چلائی اور جس طرح جاہل عوام خواہ وہ کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہوں ان باتوں کے فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں ہوا کرتے بلکہ ان کی نفرتوں کے مزاج سے جو شخص بھی کھیلنے لگ جائے ، نفرتوں کے رجحان سے کھیلنے لگ جائے وہ تقویت پکڑ جاتا ہے تو ہندوستان میں بھی نفرت کی یہی ہولی کھیلی جانے لگی ہے اور یہ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ہے کہ اتنی بھاری تعداد میں ہندو انتہا پرست طبقہ سیاست کے افق پر ابھرا ہو۔چنانچہ پانچ سو کچھ کی اسمبلی میں ۸۲ انتہا پسند منتخب ہوئے ہیں اور یہ ابھی آغاز ہے تو اگر خدانخواستہ وہاں یہ رجحان بڑھنا شروع ہو جائے جیسا کہ بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور وہی حرکتین جو پاکستان میں کی جارہی ہیں وہاں اور شدت سے اختیار کی جانے لگیں جیسا کہ بابری مسجد کا واقعہ ہے تو ہمارے لئے تو یہ انتہائی تکلیف کا موجب ہوگا کیونکہ در حقیقت مسلمانوں کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو سب سے زیادہ دُکھ احمدی کو پہنچتا ہے۔اگر اس کو دکھ نہیں پہنچتا تو وہ سچا احمدی نہیں ہے۔میں تو تصور بھی نہیں کر سکتا ایک ایسے احمدی کا جس کو دنیا میں کہیں بھی مسلمان کے دُکھ سے راحت پہنچتی ہو۔مجھے یاد ہے جب ہندوستان میں مسلمانوں پر مظالم کئے جا رہے تھے تقسیم کے وقت تو سب سے زیادہ شدت کے ساتھ ان مظالم کے خلاف جو عالمی مہم چلائی ہے وہ حضرت مصلح موعودؓ نے چلائی ہے اور تمام مبلغین جو دنیا میں کہیں بھی تھے یا اگر کہیں مبلغین نہیں تھے اور احمدی بستے تھے تو ان سب کو حضرت مصلح موعودؓ نے ہدایات جاری فرمائیں اور اس کثرت سے ہندوستان کی حکومت پر دباؤ ڈالے گئے اور مسلمانوں پر مظالم کی داستانیں شائع کروائی گئیں اور تمام دنیا کے بسنے والوں کو اس سے مطلع کیا گیا کہ اس کے مقابل پر ہزارواں حصہ بھی پاکستان کی حکومت نے نہیں کیا۔اس لئے میں آپ کو یہ تاریخ یاد دلا رہا ہوں اور خصوصیت سے اس سارے پس منظر میں یہ آپ کو یہ متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ان ظلموں کے نتیجے میں جو آپ پر ہوتے رہے آپ اپنے دل کو ٹیڑھا نہ ہونے دیں۔اپنے دل کو غلط طور پر انتقام پرست نہ بنائیں۔اپنی اخلاقی قدروں کی حفاظت کریں۔امت مسلمہ سے جو سچی محبت احمدی کو ہونی چاہئے اس بچی محبت پر آنچ نہ آنے دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس شعر کو ہمیشہ صح نظر بنائے رکھیں اور حر ز جان بنائے رکھیں۔