خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 826 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 826

خطبات طاہر جلد ۸ 826 خطبه جمعه ۲۲ دسمبر ۱۹۸۹ء انسان کے مشابہ حرکات کرے اس میں ہر حیوان کو یہ حق مل جائے گا کہ وہ حیوانیت کی قدر مشترک میں بے شک جتنا چاہے انسان بنے لیکن نطق اختیار نہ کرے۔اگر اس کی سزا میں پھانسی ملتی ہو تو صرف طوطے ذبح کئے جائیں گے یا پھانسی پر چڑھائے جائیں گے۔ان کے متعلق الزام لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ناطق کی نقل کی اور اس نطق کی سزا میں ان کے اوپر یہ سزا لا گو ہونی چاہئے۔بعینہ یہی صورت حال ان کی اسلام کی نئی تعریف پر صادق آ رہی ہے۔جب انہوں نے کہالا اله الا الله محمد رسول اللہ اپنی ذات میں کافی نہیں ہے اس لئے کہا کہ یہ جانتے تھے اور آج بھی جانتے ہیں کہ تمام احمدی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں اور کلمہ شہادت ان کے دین کا بنیادی جز ہے۔ان کو خارج کرنے کے لئے جب انہوں نے اس کی تعریف کا عام حصہ قرار دے دیا اور اس پر امتیازی یہ شرط لگادی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا انکار بھی کرے تو اس عمومیت کو اسلام کی نمائندگی قرار دینے کا ان کو حق ہی باقی نہیں رہتا۔وہی حیوانیت والی بات ہے۔محض حیوان بننا کسی جانور کو ہرگز اس بات کا سزا وار نہیں ٹھہرا تا کہ وہ گویا انسان بن رہا ہے۔جب تک تعریف کا دوسراحصہ یعنی ناطق اس پر اطلاق نہ کرے یا وہ ناطق پر عمل کرنے کی کوشش نہ کرے، اس وقت تک کسی حیوان پر یہ الزام نہیں آسکتا۔پس اگر کلمہ طیبہ کافی ہے تو پھر احمدی ویسے ہی مسلمان بن جاتا ہے اور اس کو باہر نہیں نکال سکتے۔جب ناکافی سمجھتے ہیں تو فی ذاتہ کلمہ طیبہ اسلام کی علامت نہیں رہتا جب تک دوسری شرط کے ساتھ اس کو گانٹھا نہ جائے۔پس اب قانونی شکل یہ بنتی ہے کہ جو بھی احمدی کلمہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ پڑھتے ہیں، ان کے اوپر قانون ہرگز یہ حکم نہیں لگا سکتا کہ تم نے مسلمان بننے کی کوشش کی ہے کیونکہ وہ کہہ سکتا ہے کہ مسلمان کی تعریف بتاؤ۔کس طرح مسلمان بنے کی کوشش کی ہے؟ وہ جب تعریف کریں گے تو کہیں گے اس طرح لا اله الا الله محمد رسول اللہ پر ایمان لانا اور مرزا غلام احمد کی نبوت کا انکار کرنا مسلمان بناتا ہے تو ایک احمدی جواب دے گا کہ میں نے تو ہر گز لا اله الا الله پڑھ کر مرزا غلام احمد قادیانی کا انکار نہیں کیا۔اس لئے تمہاری تعریف مجھ پر صادق نہیں آتی اور میں تمہاری تعریف میں مخل نہیں ہوا۔تمہاری تعریف کی رُو سے مجھ پر مسلمان بنے کا جرم اس وقت تک عائد نہیں ہوسکتا یا الزام عائد نہیں ہو سکتا جب تک میں لا الہ الا اللہ کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی کا انکار نہ کروں۔پس جب تک میں وہ مسلمان نہ بنوں جو تمہاری تعریف کی رُو سے مسلمان کہلاتا ہے اس