خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 819
خطبات طاہر جلد ۸ 819 خطبه جمعه ۲۲ / دسمبر ۱۹۸۹ء نے بناء رکھی ضروریات دین پر کہ جو ضروریات دین پر ایمان لاتا ہو وہ مسلمان ہے۔جب عدالت نے یہ سوال کیا کہ ضروریات دین ہیں کیا ؟ تو اس موقع پر آ کر انہوں نے اقرار کیا کہ یہ اتنی لمبی فہرست ہے کہ میرے لئے ناممکن ہے۔لفظ استعمال کئے ہیں، تقریباً ناممکن ہے کہ میں ان تمام ضروریات کو بیان کرسکوں۔گویا کہ جواب مہم رہا۔شیعہ عالم حافظ کفائت حسین صاحب نے جو ادارہ حقوق تحفظ شیعہ سے تعلق رکھتے تھے تین باتیں بنیادی طور پر بیان کیں ” توحید، نبوت، قیامت۔اس کے سوا کتب پر ایمان لانا، ملائکہ پر ایمان لانا، یہ انہوں نے ضروری نہیں سمجھا۔ان کے علاوہ ضروریات دین پر ایمان لانا بھی ضروری ہے اور ضروریات دین کی تفصیل بیان کی۔مولانا عبدالحامد بدایونی صاحب کا جواب یہ تھا کہ جو ضروریات دین پر ایمان لائے وہ مؤمن ہے اور جو مؤمن ہے وہ مسلمان بھی ہے۔ان سے بھی عدالت نے معین سوال کیا کہ ضروریات دین ہیں کیا ؟ اس کا جواب یہ تھا کہ جو شخص پانچ ارکانِ اسلام پر ایمان لاتا ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی رسالت پر ایمان لاتا ہو وہ ضروریات دین کو پورا کر دیتا ہے تو عملاً ان کی تعریف وہی بن گئی کہ جو پانچ ارکانِ اسلام ہیں۔و ہی دراصل کسی کو مسلمان بنانے کے لئے کافی ہیں۔ان پر ایمان لانا مسلمان بنانے کے لئے کافی ہے۔اس پر عدالت نے سوال کیا کہ کیا اس کے علاوہ اور بھی ایسے امور ہیں جو کسی کے مسلمان ہونے یا دائرہ اسلام سے باہر ہونے پر اثر انداز ہوتے ہیں؟ تو جواب تھا کہ ہاں اور بھی ہیں۔سوال ہوا کہ کیا آپ ایسے شخص کو مسلمان نہیں کہیں گے جو ارکانِ خمسہ اور رسالت پر تو ایمان لاتا ہولیکن چوری کرتا ہو، امانت میں خیانت کرتا ہو، ہمسایوں کی بیویوں پر گندی نظریں ڈالتا ہو اور حد سے بڑھی ہوئی احسان فراموشی کا مرتکب ہو؟ جواب تھا کہ چاہے وہ یہ ساری باتیں کرے، اگر وہ ارکانِ اسلام پر ایمان لاتا ہے تو مسلمان ہے۔محمد علی کا ندھلوی صاحب نے بیان دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ارشاد کی تعمیل میں جوضروریات دین پر عمل کرتا ہے وہ مسلمان ہے۔یہاں صرف ایمان کی بات نہیں اُٹھائی بلکہ عمل کی بات اُٹھائی۔سوال ہوا کہ ضروریات دین