خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 806 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 806

خطبات طاہر جلد ۸ 806 خطبه جمعه ۱۵ دسمبر ۱۹۸۹ء بھاری اکثریت جن کے دل میں ان کے جھوٹ سُن سُن کر آپ سے شدید نفرت بھی پیدا ہو چکی ہے اور اس بات کو آپ خوب اچھی طرح سمجھ لیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اُن کے جھوٹوں کا کوئی اثر نہیں پڑ رہا اور وہ آپ سے نفرت نہیں کرتے۔ رت نہیں کرتے۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں ایک بھاری اکثریت ایسی ہے جس نے مسلسل الزام تراشیاں دیکھ کر اور بہتان سُن سُن کر جماعت کی ایک ایسی خوفناک تصویر دل میں بٹھالی ہے کہ وہ اس تصویر سے نفرت کرتے ہیں اس کے باوجود ان کی فطرت کی سچائی جو صدیوں سے اسلام نے اُن کے اندر داخل کر کے اُن پر اسلام کی سچائی کی چھاپ لگا دی ہے وہ سچائی ان کو بتاتی ہے کہ یہ سب اپنی جگہ لیکن خدا کے نام پر خون کا خرابہ ، خدا کے نام پر قتل وغارت، خدا کے نام پر فسادیہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے ۔ پس وہ اپنے علماء کی اس آخری دعوت کو رد کر دیتے ہیں ۔ باوجود اس کے کہ اُن کے الزامات کو قبول کرتے ہیں۔ یہ وہ ایسی چیز ہے جو ایک گہرے تجزیے کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ پس یہ ممکن ہے اور عملاً ایسا ہو رہا ہے کہ پاکستان کی بھاری اکثریت آپ سے نفرت کرنے کے باوجود ظلم پر آمادہ نہیں ہے اور وہ بہت تھوڑے لوگ ہیں جو ظا جو ظلم میں ملوث ہوئے ظلم یہ اور جنہوں نے علماء کی باتوں میں لگ کر جماعت احمد یہ کو کسی قسم کا نقصان پہنچایا۔ ان کا کیا قصور ہے ان کی نفرت بھی ان کے بھولے پن کی دلیل ہے ۔ ان کی سادگی کی دلیل ہے۔ ان کی نفرت میں بھی در اصل بنیادی طور پر ایک محبت کار فرما ہے ۔ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے مسلمان کو اتنی محبت ہے کہ خواہ اسے دین کا کچھ بھی علم نہ ہو خوہ وہ کبھی نماز کے قریب تک نہ بھٹکا ہواس نے کبھی محرمات سے پر ہیز نہ کیا ہو ۔ خواہ اس نے کبھی کوئی نیکی نہ کی ہو مگر حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اس کے ایمان کا جز ہے۔ اس کے رگ و پے میں پیوستہ ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ میں خواہ کچھ بھی نہ کروں یا ہر قسم کے گناہ کروں یہ محبت میری بخشش کا موجب بن جائے گی۔ پس دشمن جب آپ پر حملہ کرتا ہے تو اس محبت کی راہ سے حملہ کرتا ہے اور یہی محبت ہے جب وہ ان کے نزدیک امر واقعہ کے خلاف زخمی ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں وہ آپ سے نفرت کرتے ہیں۔ ان کی سادگی ہے۔ ان کی جہالت ہے۔ ماحول کی بدبختی ہے۔ حکومت کی بدنصیبی ہے کہ جھوٹ کو پرورش کرنے کی کھلی اجازت دیتی ہے اور جھوٹ کی تشہیر کی سر پرستی کرتی ہے لیکن ان عوام الناس کا کوئی قصور نہیں پس ان کو تعاون کے لئے ضرور بلائیں ۔ ہر نیک کام میں ان سے تعاون کے لئے اپنے