خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 805 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 805

خطبات طاہر جلد ۸ 805 خطبه جمعه ۱۵ر دسمبر ۱۹۸۹ء روٹھے ہوئے ، اپنے ناسمجھ، غلط فہمیوں میں مبتلا بھائیوں کو یہ نہ کہا کریں کہ اب ہم نے تمہارا معاملہ عدالت عالیہ میں پہنچا دیا ہے۔اب اپنی ہلاکت کا انتظار کرو ہمیں ہرگز ہلاکت کے لئے پیدا نہیں کیا گیا۔ہمیں مارنے کے لئے نہیں، ہمیں زندہ کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور یہ وہ جماعت احمدیہ کی بنیادی شخصیت ہے، مرکزی شخصیت ہے جس پر کسی قیمت پر آنچ نہیں آنے دینی چاہئے۔اس لئے اپنے تعلقات کو منقطع نہ کریں۔اپنے تعلقات کو بڑھائیں، ان میں زیادہ محبت پیدا کریں، زیادہ خلوص پیدا کریں اور نیکی کی ایسی باتوں کی طرف لوگوں کو بلائیں جن میں ان کے اور ہمارے درمیان عقائد کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔اس پہلو سے اگر آپ اسلام کی تعلیم کا جائزہ لیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ وہ بہتر فرقے جو آپس میں ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے اور مختلف قسم کے عقائد پر ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں، بنیادی نیکی کے تصور میں ایک دوسرے کے ساتھ پوری طرح متحد اور متفق ہیں، بنیادی نیکی کا تصور ہر جگہ ایک ہی ہے۔اخلاق حسنہ کے تصور میں الا ماشاء اللہ سوائے اس کے بعض مزاج بگڑ چکے ہوں، بعض فطرتیں مسخ ہو چکی ہوں، کوئی فرق نہیں ہے۔پاکستان میں بھی جہاں مسلمان علماء نیکی کے تصور کو بھی مروڑ تروڑ کر اور مسخ کر کے اہل پاکستان کے سامنے پیش کرتے ہیں اور یہ بتانے کی اور یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ خدا کے نام پر کسی کی جان لینا ظلم کرنا، عورتوں پر ہاتھ اُٹھانا، ان کی عزتیں لوٹنا، لوگوں کے گھر جلانا، ان کے مال لوٹنا اور ہر طرح سے خدا کے نام پر نفرتیں پھیلانا جائز ہے بلکہ باعث ثواب ہے۔اُن لوگوں کی بات میں نہیں کر رہا لیکن اس کے باوجود پاکستان کے عوام الناس کا مزاج اُن کے اس دعوے کو قبول نہیں کرتا۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ ہر شریف النفس اور مُنصف مزاج انسان اس کا انکار نہیں کر سکتا۔میں نے ایک دفعہ پہلے بھی جماعت کو اس بات پر متوجہ کیا تھا کہ پاکستان کے چند علماء کی شدید دشمنی اور شدید عناد کے نتیجے میں آپ جود کھ محسوس کرتے ہیں وہ اپنی جگہ بجا ہے لیکن اس دکھ کے رد عمل میں پاکستان کے سادہ لوح مسلمان عوام کے خلاف اپنے دل میں نفرت نہ پیدا ہونے دیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ اُن کا مزاج سادگی کے ساتھ اسلام پر ہے اور ان میں سے بھی ایک بہت ہی تھورا طبقہ ہے جو ان علماء کی بات پر کان دھرتا اور ان کے کہنے پر قتل و غارت کے لئے اُٹھ کھڑا ہوتا ہے ورنہ قوم کی بڑی بھاری اکثریت ، بڑی بھاری اکثریت ایسی ہے جو ان کی باتیں سنتی ہے اور ان پر کان نہیں دھرتی۔ایسی